چین شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی جانی و مالی تباہی سے ابھی پوری طرح سنبھل بھی نہیں پایا کہ سپر سمندری طوفان ’باوی‘ نے ملک کے مشرقی ساحلی علاقوں کے لیے نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں بھی مون سون بارشوں نے بڑے شہروں سے لے کر پہاڑی علاقوں تک معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں، جہاں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور عمارتیں گرنے کے واقعات میں متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
چین میں حالیہ دنوں موسلادھار بارشوں، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ جنوبی اور وسطی علاقوں میں انفراسٹرکچر، زرعی اراضی اور رہائشی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ موسم میں مختلف حادثات، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ملک بھر میں کم از کم 71 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
BREAKING: Around 900 snakes, including venomous cobras, escaped after heavy rain flooded a breeding farm in southern China 🐍pic.twitter.com/pyVALtOnUG
— News Algebra (@NewsAlgebraIND) July 10, 2026
چینی حکام نے اب سپر طوفان ’باوی‘ کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طاقتور طوفان مشرقی ساحلی صوبوں فوجیان اور ژیجیانگ کے درمیان ہفتہ کی شب ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ طوفان کے باعث 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی ہوائیں، شدید بارشیں، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام نے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، سینکڑوں ماہی گیر کشتیوں کو واپس بلا لیا گیا ہے اور ہنگامی امدادی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
🚨 Breaking: Typhoon Bavi will not make landfall in Taiwan, but its 380-kilometer radius threatens millions on both sides of the Strait.
★ https://t.co/QSshGovAwN ★ pic.twitter.com/LV0AfIav9E— TVBS World Taiwan (@tvbsworldtaiwan) July 10, 2026
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان ’باوی‘ سے اٹھنے والی نمی شمالی چین تک پہنچ سکتی ہے، جس کے باعث پہلے سے بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں مزید شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چینی وزارتِ آبی وسائل نے بڑے دریائی نظاموں میں ممکنہ طغیانی کے پیش نظر ہنگامی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
دوسری جانب بھارت بھی مون سون بارشوں کی شدت سے شدید متاثر ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی مون سون پورے ملک پر چھا چکا ہے اور جولائی کے ابتدائی دنوں میں معمول سے 42 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
To the rest of the world who might not be aware:
Every single year, Mumbai (aka Bombay) is hit by torrential monsoon rains. This is a completely predictable annual event.
Massive Expressways are destroyed, roads become rivers, train stations flood and shut down, and essential… pic.twitter.com/7hL7ndCw1h
— eppy (@epppyyy) July 8, 2026
دہلی، این سی آر، مہاراشٹر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، کیرالہ، گجرات، آسام اور دیگر کئی ریاستوں میں شدید بارشوں کے باعث سڑکیں زیر آب آ گئی ہیں، ٹریفک کا نظام مفلوج ہو گیا ہے اور متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور عمارتیں گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ہماچل پردیش میں سیلابی ریلے ایک سو فٹ طویل پل بہا لے گئے، جبکہ دہلی میں تین برس کی شدید ترین جولائی بارش ریکارڈ کی گئی۔ مختلف ریاستوں میں ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ موسمیاتی اداروں نے مزید شدید بارشوں اور سیلاب کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ برقرار رکھا ہے۔














