وزیر سکینہ ایتو بھی یومِ شہدائے کشمیر پر سرینگر کے مزارِ شہداء نہ پہنچ سکیں

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں اسکول ایجوکیشن، صحت اور سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو کو بھی پیر کے روز مزارِ شہداء پر حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کرنے سے روک دیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سکینہ ایتو نے بتایا کہ وہ 13 جولائی 1931ء کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سرینگر کے نقشبند صاحب میں واقع مزارِ شہداء پہنچیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرینگر میں 13 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر پابندیاں سخت، مزارِ شہداء سیل

تاہم یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر بھارتی فورسز کی بھاری نفری کی تعیناتی اور قبرستان کے گرد خار دار تاروں کی وسیع رکاوٹوں کے باعث انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سکینہ ایتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ وہ آج صبح ساڑھے چار بجے 13 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارِ شہداء جانا چاہتی تھیں۔

مزید پڑھیں: یومِ شہدائے کشمیر: صدر اور وزیراعظم کا 22 شہدائے 1931 کو خراجِ عقیدت، حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ

’۔۔۔ لیکن بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی اور خار دار تاروں کی رکاوٹوں کے باعث مجھے اندر جانے سے روک دیا گیا۔‘

اس موقع پر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس یعنی جے کے این سی کی ویمن ونگ کی صوبائی صدر انجینئر سبیہ قادری بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp