بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا چترال سفر خیبرپختونخوا میں داخل ہوتے ہی سیاسی دورے کی شکل اختیار کر گیا، اور انہوں نے جگہ جگہ کارکنوں سے خطاب بھی کیا، جس پر پارٹی کے اندر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
علیمہ خان گزشتہ دنوں خاندانی سلسلے میں چترال جا رہی تھیں اور ان کا چترال سفر مکمل طور پر نجی تھا، لیکن خیبرپختونخوا میں داخل ہوتے ہی یہ سیاسی دورہ بن گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
علیمہ خان کے ساتھ یوتھ رہنما اور سابق معاون خصوصی ڈاکٹر شفقات ایاز بھی موجود تھے۔ علیمہ خان کے مطابق وہ چترال اپنے پوتے پوتیوں سے ملنے جا رہی تھیں اور دورہ اس وقت سیاسی بن گیا جب جگہ جگہ کارکن استقبال کے لیے نکل آئے اور نعرے لگائے۔ یہی نہیں، علیمہ خان مختلف مقامات پر گاڑی سے باہر آئیں اور کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔
علیمہ خان نے غیر سیاسی دورے کے دوران پارٹی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک مقام پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی قیادت اور منتخب اراکین کے کردار پر سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہاکہ بتایا جائے منتخب اراکین عمران خان کی رہائی کے لیے کیا کررہے ہیں۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کی اسٹریٹ موومنٹ پر بھی سوال اٹھایا اور کہاکہ بتایا جائے اسٹریٹ موومنٹ کی بات کہاں تک پہنچی۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے دسمبر میں سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا کہا تھا۔
علیمہ خان نے اپنے دورے کو غیر سیاسی قرار دیا، لیکن پارٹی کے بعض رہنماؤں نے نام لیے بغیر ان پر تنقید کی، جبکہ علیمہ خان کے ساتھ چترال تک جانے والے شفقات ایاز نے بھی سیاسی سرگرمیوں اور سیاسی دورے کی تردید کی۔ انہوں نے وی نیوز کو بتایا کہ دورہ مکمل طور پر غیر سیاسی تھا۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور سینیئر رہنما علی محمد خان نے نام لیے بغیر تنقید کی۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ پاکستان تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ پارٹی کے اندر بھی قیادت کو نشانہ بنانے اور سیاسی معاملات پر بات کرنے پر بعض رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تاہم علی محمد خان نے وضاحت بھی دی کہ ان کی بات کا مطلب علیمہ خان نہیں تھیں۔
کیا علیمہ خان پارٹی کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہی ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر عمران خان کی بہنوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث بے چینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔
اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی کے ناراض لوگ عمران خان کی بہنوں کے ساتھ ہیں اور انہیں ممکنہ طور پر سپورٹ بھی کررہے ہیں، جبکہ سیاست اور پارٹی کی باگ ڈور بھی اپنے ہاتھ میں لینے کا مشورہ دے رہے ہیں، تاہم پارٹی کی موجودہ قیادت اور صوبائی حکومت میں برسراقتدار افراد بالکل بھی یہ نہیں چاہتے۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق اسپیکر مشتاق غنی سے جب علی محمد خان کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنیں مجبوری میں سامنے آئی ہیں اور وہ اپنے بھائی کی رہائی چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت پارٹی کیا کررہی ہے، یہ سب بہنیں دیکھ رہی ہیں اور بھائی کے لیے سامنے آنا ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ علی محمد خان نے خود اپنے بیان کی وضاحت بھی کردی ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علیمہ خان اس وقت پارٹی قیادت سے سخت ناراض ہیں اور وہ کھل کر اس پر بات بھی کررہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ علیمہ خان کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی رہائی مہم کا آغاز کریں۔ ’مسئلہ اختیار اور طاقت کا ہے، علیمہ بھی چاہتی ہیں کہ پارٹی میں تمام اختیارات انہیں ملیں، لیکن کوئی اس پر متفق نہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ علیمہ خان خود کو غیر سیاسی تو کہتی ہیں لیکن کام سیاسی کررہی ہیں، جدھر بھی جاتی ہیں کارکن جمع کرتی ہیں، خطاب کرتی ہیں اور قیادت پر تنقید کرتی ہیں۔ ’چترال اپنے پوتے پوتیوں سے ملنے جا رہی تھیں، لیکن ہر جگہ جلسہ کرتی ہوئی پہنچیں اور پھر کہتی ہیں کہ یہ غیر سیاسی دورہ تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ کارکنوں کو کیسے پتا چلا کہ وہ چترال جارہی ہیں اور مقررہ وقت پر کس مقام پر پہنچیں گی۔ ’یہ خود شیڈول دیتے ہیں، اپنے لوگوں کے ذریعے تنقید کرواتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کارکن خود جمع ہوئے تھے۔‘
انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اندر بھی اس پر بات ہوتی ہے اور مرکزی و صوبائی قائدین کو اس پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ سیاسی فیصلے سیاسی لوگوں کو ہی کرنے چاہییں، سیاسی فیصلوں کا اختیار عمران خان نے خود محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو دیا ہے، اور سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت پر بے جا تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اور نوجوان صحافی شاہد خان کے مطابق پارٹی میں عمران خان کی بہنوں کے خلاف سامنے آ کر بات کرنے کو کوئی تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان کے خلاف کھل کر بات کی تھی اور اب اس کا انجام سب کے سامنے ہے۔ ’عمران خان بہنوں اور اہلیہ کی باتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور انہی غیر سیاسی لوگوں کے کہنے پر سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ علیمہ خان کی پوری کوشش ہے کہ پارٹی کی سربراہ وہ بنیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو رہی ہیں، ان کے مطابق پارٹی کے اندر بھی لوگ ان کے ساتھ ہیں۔
صحافی عارف حیات کے مطابق پی ٹی آئی میں اس وقت قیادت کا فقدان ہے، کوئی کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہاکہ بیرسٹر گوہر کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی اور گروپ بندی کی وجہ سے ان کی حیثیت انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: علیمہ خان وراثت سنبھالنا چاہتی ہیں لیکن ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، شیر افضل مروت
انہوں نے کہاکہ اس وقت قیادت عمران خان کی بہنوں سے سخت تنگ نظر آتی ہے اور ملاقات کے دنوں میں ان پر اختلافات پیدا کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ ’تحفظات سب کو ہیں، لیکن سامنے آکر کھل کر کوئی بات نہیں کر سکتا۔‘
انہوں نے کہاکہ علیمہ خان اب مکمل طور پر سیاسی ہوگئی ہیں اور انہیں سیاست کا اندازہ بھی ہوگیا ہے کہ کارکنوں کو کیسے ساتھ رکھنا ہے، ان کا غیر سیاسی دورہ چترال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔










