سپریم کورٹ آف پاکستان اور سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے مؤثر، قابلِ رسائی اور عوام دوست نظامِ انصاف کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی تعاون بڑھانے، جدید عدالتی اصلاحات کے تجربات کے تبادلے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے افسران کے ایک وفد نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کا وفد ادارہ جاتی استعدادِ کار اور تجربات کے تبادلے کے پروگرام کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2 روزہ دورے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ایک سال مکمل، سپریم کورٹ میں کیا کچھ بدلا؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادارہ جاتی تعاون، پیشہ ورانہ استعدادِ کار میں اضافے اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر عدالتی انتظام اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے مختلف عدالتی اداروں کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران وفد کو سپریم کورٹ کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جو عوام مرکز، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ، شفاف اور مؤثر نظامِ انصاف کے قیام پر مرکوز ہے۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ کو ٹائٹینک کیوں کہا؟
وفد کو ای فائلنگ، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ، پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر اور دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے انتظامی اور عدالتی امور کے مختلف پہلوؤں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
دورے کے دوران وفد نے پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر، سپریم کورٹ میوزیم اور آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں جدید عدالتی سہولیات اور ڈیجیٹل نظام کے عملی خدوخال سے آگاہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ اور اقوام متحدہ کا عوام دوست نظامِ انصاف کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
وفد نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی اصلاحاتی اور تکنیکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ڈیجیٹل نقول کے اجرا، کیس مینجمنٹ اور دیگر ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کی پیشکش کی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں اداروں نے باہمی تعاون، پیشہ ورانہ استعدادِ کار میں اضافے اور بہترین طریقہ کار کے مسلسل تبادلے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مؤثر، قابلِ رسائی اور عوام دوست نظامِ انصاف کے فروغ کے لیے مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔














