وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے شہدائے فوج سے متعلق متنازع بیان کو ‘نامناسب’ مگر غیر ارادی قراردیا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ جے یو آئی (ف) خیبر پختونخوا نے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسلام آباد مارچ کی دھمکی دے دی ہے۔
رانا ثنا اللہ کا نجی ٹی وی پروگرام میں اہم انکشاف
مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور مشیرِ سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ نپے تلے اور محتاط انداز میں بات کرتے ہیں، اس لیے ان کی رائے میں مولانا کا مقصد وہ نہیں تھا جو ان کی زبان سے نکلا۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان فوج سے متعلق اپنے الفاظ واپس لیں اور قوم سے معافی مانگیں، سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان
انہوں نے واضح کیا کہ شہدا کے بارے میں کہے گئے الفاظ ‘نامناسب’ تھے اور ان کی کسی صورت توثیق نہیں کی جا سکتی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان اپنے الفاظ واپس لے لیتے تو یہ ایک مدبرانہ متبادل ہوتا، تاہم انہوں نے ایک مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مولانا کے خلاف کوئی پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے۔
تنخواہ کے لیے کوئی جان نہیں دیتا، احتجاج کی اجازت نہیں ملے گی
رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا کہ مولانا فضل الرحمان کا بیان اتنا نقصان دہ تھا کہ اس سے سرحدوں پر مامور جوانوں کی ’حوصلہ شکنی‘ ہو سکتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’جو لوگ سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور جانیں قربان کرتے ہیں، وہ کسی تنخواہ یا پیسے کے لیے ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے محرک ضروری ہے۔‘
مزید پڑھیں:فوج سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا متنازع بیان اسلام آباد کے شہریوں نے مسترد کردیا
جے یو آئی (ف) کی جانب سے راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کے باہر احتجاج کی دھمکی پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ عمل بھی ‘نامناسب’ ہوگا اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اسے جی ایچ کیو پر نہیں بلکہ ‘پاکستان کے دفاع پر براہِ راست حملہ’ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے عوامی اور سیاسی حلقوں کے ردعمل کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہدا کے خاندانوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری تھا۔
جے یو آئی (ف) کا جواب، ‘سیاق و سباق سے ہٹ کر طوفان کھڑا کیا گیا’
دوسری جانب جے یو آئی (ف) خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عطا الرحمان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا بھرپور دفاع کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 11 جولائی کو قصور میں پارٹی کے کامیاب جلسے سے خائف بعض حلقوں نے تقریر کا ‘آدھا جملہ’ لے کر پورے ملک میں میڈیا کا طوفان کھڑا کیا۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان کا بیان غیر ذمہ دارانہ، شہدا کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے : فیصل کریم کنڈی
ان کا کہنا تھا کہ 12 جولائی تک میڈیا یا سوشل میڈیا پر اس کا کوئی ذکر نہیں تھا، لیکن 13 جولائی کو اچانک ایک ‘منصوبہ بند واویلا’ شروع کر دیا گیا۔
انہوں نے چیلنج کیا کہ تنقید کرنے والے مردِ حر بنیں اور مولانا کی پوری تقریر نشر کریں تاکہ عوام خود سچ دیکھ سکیں۔














