امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی عبوری حکومت سے ہمارا سب سے بڑا شکوہ یہی ہے کہ دہشت گرد عناصر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جسے ہر صورت روکنا چاہیے۔
نجی ٹیلیویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا حل صرف مذاکرات اور مسلسل بات چیت میں ہے۔ ان کے بقول ریاست پاکستان، دینی علما، قبائلی عمائدین اور بین الاقوامی علما کی تنظیمیں اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر داخلہ کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، اہم قومی و علاقائی امور زیر بحث
انہوں نے کہا کہ چین، روس اور ترکیہ سمیت مختلف ممالک بھی دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ مسلسل کشیدگی سے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، جو خطے کے لیے نقصان دہ ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ اگر سرحدی قبائل کے نمائندوں کو شامل کرکے ایک بڑا مشترکہ جرگہ تشکیل دیا جائے تو یہ مسئلہ بہتر انداز میں حل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے افغان طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام نے گزشتہ تقریباً پچاس برس ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹے ہیں، افغان مہاجرین کو پاکستان نے اپنے گھروں، بازاروں اور کاروباروں میں جگہ دی، اس لیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:حق دو کراچی کے بینرز لگانے اور چھاپنے والوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، حافظ نعیم کا پیپلز پارٹی پر الزام
امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور طالبان کو کسی دوسرے ملک یا گروہ کے ایجنڈے پر کام کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے حکومت پاکستان پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک دور ناکام ہو جائے تو دوسرا شروع کیا جائے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن اور بہتر تعلقات کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں۔














