سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف قومی اداروں میں اربوں روپوں کی مالی بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق نیلم جہلم منصوبے اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) سے متعلق بھی مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتظامی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک سال میں جنگ اور امن دونوں محاذوں کے فاتح رہے، خواجہ آصف
وی نیوز کے خصوصی پروگرام ‘صحافت اور سیاست’ میں گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا کہ ان کے خیال میں ایسے حالات میں ایک مضبوط شخصیت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں سنبھال سکے، بیوروکریسی کو نظم و ضبط میں لا سکے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر بنا سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت بیوروکریسی مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے اور انتظامی معاملات بڑی حد تک افسر شاہی کے ذریعے چل رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابل افسر ہیں اور ان کے مطابق انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلا رہے ہیں۔
کنور دلشاد نے کہا کہ اگر آئینی اور سیاسی حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ صدر پاکستان کا منصب خالی ہو جائے اور نئے صدر کا انتخاب آئینی طور پر ممکن نہ رہے تو آئین میں ترمیم کرکے فیلڈ مارشل کو عارضی طور پر صدرِ پاکستان بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی اور داخلی حالات غیر معمولی نوعیت کے ہیں اس لیے ہر ممکن آئینی راستے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر مجوزہ آئینی ترمیم کے معاملے پر صدر آصف علی زرداری اتفاق نہ کریں اور سیاسی دباؤ بڑھنے کی صورت میں وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تو پھر صدر پاکستان کون ہوگا۔ اس پر کنور دلشاد نے کہا کہ ان کے نزدیک اس سوال کا تعلق صرف سیاست سے نہیں بلکہ آئینی تقاضوں اور خطے کی مجموعی صورتحال سے بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جنگ کی صورتحال، امریکا سمیت بڑی طاقتوں کی دلچسپی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کسی بھی غیر معمولی صورتحال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مزید پڑھیے: http://صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک
کنور دلشاد نے کہا کہ اگر ایسے حالات میں صدر کا منصب خالی ہو جائے تو آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت نئے صدر کا انتخاب کرانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس انتخابی عمل میں پارلیمنٹ، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں شامل ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر حالات معمول کے مطابق نہ ہوں تو اس آئینی عمل کو مکمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں آئین کے آرٹیکل 41 میں ترمیم ایک ممکنہ راستہ ہو سکتا ہے جس کے ذریعے فیلڈ مارشل کو عارضی طور پر صدر پاکستان کا منصب دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے آئینی عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے تاکہ غیر معمولی حالات کے پیش نظر آئینی رہنمائی حاصل کی جا سکے اور اس انتظام کو قانونی تحفظ مل سکے۔
کنور دلشاد نے کہا کہ ان کی رائے میں یہ ایک عارضی آئینی بندوبست ہو سکتا ہے اور جب حالات معمول پر آ جائیں تو دوبارہ آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدرِ پاکستان کا باقاعدہ انتخاب کرا لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی آئینی رائے اور ایک عمومی تجویز ہے جسے موجودہ حالات کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان مذاکراتی عمل میں شاندار رہا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہترین شخصیات ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ایک اور سوال کے جواب میں کنور دلشاد نے کہا کہ موجودہ حالات میں فیلڈ مارشل کو اقتدار سنبھال لینا چاہیے یا صدر بن جانا چاہیے کیوں کہ پاکستان اس وقت بدانتظامی، ناقص حکمرانی اور کرپشن جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان کے بقول تقریباً ہر ریاستی ادارے میں کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں جس کے باعث نظامِ حکومت متاثر ہو رہا ہے۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر ایوب خان کے دور میں وفاقی کابینہ محدود مگر قابل افراد پر مشتمل تھی جس کی وجہ سے معاشی اور انتظامی فیصلے زیادہ مؤثر انداز میں کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں منگلا ڈیم جیسے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے جس کی لاگت تقریباً 40 کروڑ ڈالر تھی جبکہ اس وقت ڈالر کی قیمت تقریباً 4 روپے تھی۔
گفتگو کے دوران کنور دلشاد نے پاکستان میں انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات کی روایت پر بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ روایت رہی ہے کہ جو جماعت انتخابات میں کامیاب نہیں ہوتی وہ اپنی کمزور حکمت عملی یا عوامی حمایت میں کمی کا جائزہ لینے کے بجائے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزامات عائد کر دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2008 کے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات میں شامل تھے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ اور دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرلز نے بھی اس وقت الیکشن کمیشن کو خطوط لکھ کر ان انتخابات کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا اہم سنگ میل قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، امریکی رکن کانگریس کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے نام تعریفی خط
کنور دلشاد نے بتایا کہ انتخابات سے قبل بطور وفاقی سیکریٹری الیکشن انہوں نے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو انتخابی صورتحال پر بریفنگ دی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کو تقریباً 35 نشستیں، پیپلز پارٹی کو تقریباً 85 نشستیں اور مسلم لیگ (ن) کو 67 سے 70 نشستیں مل سکتی ہیں۔ ان کے مطابق جنرل مشرف کو بعض دیگر ذرائع سے مختلف اعداد و شمار دیے جا رہے تھے تاہم انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی مداخلت نہ کریں اور نتائج کو قبول کریں۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ملک کی سیاسی فضا مکمل طور پر تبدیل ہوگئی جس کا فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ملا اور انتخابی نتائج پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔
سال 2013 کے انتخابات کے حوالے سے قمر دلشاد نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بعض اعتراضات انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق تھے تاہم ان کے مطابق انہیں منظم دھاندلی قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں بے ضابطگیوں کا ذکر کیا تھا مگر کسی منظم سازش کی نشاندہی نہیں کی۔
مزید پڑھیں: عالمی سفارتکاری میں پاکستان کا ابھرتا کردار، انڈیا دباؤ کا شکار
انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسران کو خطوط لکھنا اور ان کے دفاتر کے دورے کرنا غیر ضروری تھا اور آئین کے آرٹیکل 219 کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
’ایک نامعلوم آواز اور آر ٹی ایس بند‘
قمر دلشاد نے سال 2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ معروف آئی ٹی ماہر عمر سیف نے پہلے ہی اس نظام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق انتخابی رات انہیں اطلاع ملی کہ آر ٹی ایس بند ہوگیا ہے اور بعد ازاں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ کنٹرول روم میں کسی نامعلوم آواز نے ’بند کر دو‘ کہا جس کے بعد نظام معطل ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ایف آئی اے کو خط بھی لکھا گیا تاہم ان کے بقول کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔
گزشتہ انتخابات میں فارم 47 کے تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی خواہش تھی کہ ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں مگر بعد ازاں عدالتی فیصلوں اور انتظامی تبدیلیوں کے باعث دوبارہ انتظامیہ کے افسران کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔
ان کے مطابق اس اچانک تبدیلی کی وجہ سے متعلقہ افسران کو مناسب تربیت نہیں مل سکی جس سے فارم 47 کی تیاری میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
مزید پڑھیے: معرکہ حق میں افواج پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا، مریم نواز کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین
انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک یہ معاملہ منظم دھاندلی کے بجائے انتظامی کمزوری اور تربیت کے فقدان کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس وقت مکمل اور غیر جانبدارانہ انکوائری ہوتی تو بہت سے حقائق سامنے آ سکتے تھے تاہم وقت گزرنے کے بعد ایسی تحقیقات کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔












