میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وہ بلدیاتی نظام کا سیاسی چہرہ ہیں اس لیے شہر میں ہونے والی ہر اچھی یا بری پیشرفت کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’آج 2 کلیجیاں زیادہ کھا لیں‘، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے یہ مشورہ کس کو دیا؟
وی نیوز کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ذمہ داری سے فرار ان کی سیاست نہیں اور وہ کراچی کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہو یا بدقسمتی میں بلدیاتی نظام کا سیاسی چہرہ ہوں اور کراچی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی سیاسی ذمہ داری میری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تنقید سے گھبراتے نہیں بلکہ اسے جمہوری عمل کا حصہ سمجھتے ہیں تاہم تنقید حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
میئر کراچی نے ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں شہر کے مسائل کی ذمہ داری سے خود کو الگ نہیں کر سکتیں۔
مزید پڑھیے: ’قانون بنانے والے ہی قانون توڑنے لگے‘، بغیر ہیلمٹ اور لائسنس کے بائیک چلانے پر صارفین مرتضیٰ وہاب پر برس پڑے
ان کا کہنا تھا کہ جن جماعتوں نے مختلف ادوار میں کراچی کی سیاست، بلدیاتی نظام اور عوامی نمائندگی میں اہم کردار ادا کیا انہیں بھی اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں ہر معاملے پر موجودہ بلدیاتی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کراچی کو درپیش بہت سے مسائل برسوں پرانے ہیں۔ ان کے مطابق شہر کے بنیادی مسائل ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کا حل ایک دن میں ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کراچی کے لیے خصوصی احساس رکھتے ہیں اور شہر کے عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کراچی کی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں اور اسی وژن کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ بلدیاتی حکومت محدود وسائل کے باوجود شہری مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سڑکوں، پارکس، صفائی، نکاسی آب اور دیگر بلدیاتی خدمات کی بہتری کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور شہریوں کو اس کے نتائج بتدریج نظر آئیں گے۔
مزید پڑھیں: برج 100 دن میں مکمل کریں، سستی برداشت نہیں ہوگی، مراد علی شاہ کی مرتضیٰ وہاب کو تنبیہ
انہوں نے کہا کہ وہ بطور میئر اپنی ذمہ داری پوری دیانتداری سے ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کراچی کے عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نے انہیں خدمت کے لیے منتخب کیا ہے اور وہ اسی مقصد کے تحت کام کر رہے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ملکی معیشت کا مرکز ہے اس لیے اس کے مسائل کا حل سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے نہیں بلکہ تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی قوتوں کے تعاون سے ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی اور لاہور کا موازنہ غیر مناسب، دونوں شہروں کے مسائل مختلف ہیں: میئر مرتضیٰ وہاب
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ شہر کی ترقی اور عوام کی فلاح کو سیاسی اختلافات پر ترجیح دی جائے تاکہ کراچی اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکے۔












