ریسٹورنٹ دھماکے نے ماسکو کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگا دیا

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روسی دارالحکومت ماسکو کے علاقے کدرنسکایا اسکوائر میں واقع معروف اطالوی ریسٹورنٹ بالزی روسی کے باہر ہونے والے دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کا محاصرہ ختم کر دیا ہے جبکہ تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ کا معائنہ مکمل کر لیا ہے۔

ہفتے کی شب ریسٹورنٹ کو بھاری ہتھیاروں سے لیس پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا تھا جبکہ متعدد ایمبولینسیں اور ہنگامی امدادی گاڑیاں بھی موقع پر موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل

جائے وقوعہ پر ریسٹورنٹ کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں اور دیواروں پر دھماکے کے نشانات اس واقعے کی شدت کو ظاہر کر رہے تھے۔

روسی سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔

روس کی قومی انسداد دہشتگردی کمیٹی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک خاتون دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد کے ساتھ ریسٹورنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ امکان ہے وہ کسی نجی تقریب میں شریک مہمان کے لیے ایک پارسل پہنچانے آئی تھی اور اسے اس کے اندر موجود دھماکا خیز مواد کا علم نہیں تھا۔

سیکیورٹی گارڈ نے اسے اندر جانے سے روک دیا، جس کے چند لمحوں بعد دھماکا ہو گیا۔

مزید پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

واقعے کے بعد غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اس وقت ایک سینیئر روسی فوجی کمانڈر بھی ریسٹورنٹ میں موجود تھا۔

تاہم حکام نے نہ تو مہمانوں کی فہرست جاری کی ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق کی ہے۔

کریملن نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم اٹلی میں روسی سفارت خانے نے ایک بیان میں حملے کا الزام یوکرین پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد روس میں کام کرنے والے اطالوی شہریوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔

بیان میں کسی ممکنہ ہدف کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی، جبکہ یوکرین کی جانب سے بھی اس الزام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب، مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ دھماکے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق زور دار دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی اور کئی افراد شدید خوف کا شکار ہو گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp