امریکا ایران کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی، پاکستان کی سفارتکاری کا نیا امتحان

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اور مرکزی ثالث پاکستان ہی ہے جبکہ قطر بھی اِس میں معاون ہے۔ اس اہم بیان نے ان افواہوں کو رد کر دیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ اب غیر متعلق ہو چکی ہے۔

پاکستانی سفارتی ماہرین کے مطابق ایرانی ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے یہ ایک انتہائی اہم بیان ہے اور اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایران اور امریکا کی جانب سے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی معطلی سے متعلق بیانات کے باوجود پاکستان بیک چینل مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور امن کے لیے کوشش کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟

امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان سفارتکاری کررہا ہے، ضمیر اکرم

پاکستان کے سابق سینیئر سفارتکار ضمیر اکرم نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسماعیل بقائی کے اِس بیان کی اس وجہ سے بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ ہم اس جنگ میں براہِ راست فریق کی جانب سے یہ بات سن رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان بیک چینل کرادار ادا کر رہا تھا جس کے بارے میں تصدیق ہوگئی۔

ایک سوال کہ آیا اب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ سے شروع ہوں گے، کے جواب میں ضمیر اکرم نے کہاکہ آج سے مذاکرات ہونے تو چاہییں لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔

پاکستان مرکزی سہولت کار کے طور پر ابھرا، علی کے چشتی

دفاعی امور کے ماہر علی کے چشتی نے اپنے ایک اکاؤنٹ پر ایک بیان میں لکھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان مرکزی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے، جس طرح پاکستان نے اپنی خاموش سفارتکاری کے ذریعے اپریل میں جنگ بندی اور اِسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ممکن بنایا لائق تحسین ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد نے بارہا امریکا سے تحمل اور حملوں میں کمی کی درخواست کی تاکہ مذاکرات کے لیے ماحول بن سکے۔ اسلام آباد نے مؤثر طور پر امریکا کو فوجی دباؤ کم کرنے پر مائل کرتے ہوئے ایک خاموش اور سفارتی کردار ادا کیا تاکہ ایران امریکا مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔

’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برقرار‘

31 جولائی کو ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اِسلام آباد مفاہمتی یاداشت بالکل برقرار ہے اور فریقین جب بھی تیار ہوں گے اِسی یادداشت کے تحت طے شدہ فریم ورک کے تحت ہی مذاکرات کریں گے۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہاکہ امریکا ایران پر شدید ترین نوعیت کے فوجی حملے کرنے کے لیے تیار تھا لیکن کچھ خلیجی ریاستوں نے امریکا سے ایسا نہ کرنے کی درخواست کی جس پر انہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ 8 مارچ اور 21 اپریل کو صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کے لیے پاکستانی قیادت کا ذکر کیا تھا کہ پاکستانی قیادت کے کہنے پر انہوں نے حملے روکے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟

دور روز کے اندر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پاکستانی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان دوبار موجودہ صورتحال پر بات چیت ہو چکی ہے جس میں علاقائی امن کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق اِس بات چیت کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ نے ترکیے کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بھی بات چیت کی اور مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں تیز تر کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے درمیان یہ رابطہ اس لحاظ سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ عسکری اور سفارتی سطح پر پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جس سے مذاکراتی عمل کو سہارا مل سکتا ہے۔

یہ پیشرفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں جنگ کے خطرات کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے بلکہ پاکستان کی وساطت سے انہیں برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان دوبارہ کیوں اہم ہو گیا؟

پاکستان بیک وقت ایران، امریکا، سعودی عرب، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ یہی متوازن خارجہ پالیسی اسلام آباد کو اس بحران میں ایک قابلِ قبول ثالث بناتی ہے۔

28 فروری کے بعد سے پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کیں بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطوں کے لیے بھی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ بعد ازاں انہی کوششوں کے نتیجے میں ’اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک‘ وجود میں آیا۔

اسی تناظر میں پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے۔

گزشتہ ہفتے بھی پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ انہیں دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ

سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ایران پابندیوں کے خاتمے اور سلامتی کی ضمانتوں پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکا ایرانی جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کے معاملات کو مذاکرات کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔ یہی اختلافات اب بھی کسی جامع معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی پیشرفت مثبت، جلد حتمی شکل دیے جانے کا امکان

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک کا بڑا اقدام

لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں، متعدد دہشتگرد ہلاک، ٹھکانے تباہ

میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے واحد میڈل جیتنے والی فاطمہ زہرہ کی وطن واپسی، اپنے پیغام میں کیا کہا؟

ویڈیو

امریکا کی 25 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے نئے عالمی ٹیرف کیخلاف عدالت سے رجوع

امریکا نے ویزا بانڈ پروگرام مستقل کر دیا، پاکستان مستثنیٰ قرار

سولر صارفین کے لیے اہم خبر، نئی سولر پالیسی میں بڑی سہولت مل گئی

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ