کراچی کی کٹی پہاڑی میں امید کی نئی کرن، نوجوان خاتون نے مفت اسکول قائم کر دیا

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں واقع کٹی پہاڑی ایک ایسا علاقہ جہاں بہت سے خاندان آج بھی غربت اور محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں تعلیم اکثر ترجیح نہیں بلکہ ایک خواب کہلاتی ہے اور کئی بچے کم عمری میں ہی محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو کبھی اسکول کا دروازہ ہی نہیں دیکھ پاتے۔

یہ بھی پڑھیں: گینگسٹر یا ہیرو؟ لیاری گینگ وار کے رحمان ڈکیت کی اصل کہانی

انہی مشکل حالات کے درمیان ایک نوجوان لڑکی نے فیصلہ کیا کہ اگر بچوں تک تعلیم نہیں پہنچ رہی تو وہ خود تعلیم کو ان کے دروازے تک لے جائے گی۔

یہ کہانی ہے ریوا خان کی جنہوں نے اپنے دوستوں اور سماجی حلقوں سے فنڈ ریزنگ کے ذریعے کٹی پہاڑی میں ایک مفت پرائمری اسکول قائم کیا جہاں نرسری سے تیسری جماعت تک بچوں کو بغیر کسی فیس کے معیاری تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان کا مقصد صرف بچوں کو پڑھانا نہیں بلکہ انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ وہ بھی بہتر مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔

دور بیٹھ کر تبدیلی نہیں آتی

ریوا خان بتاتی ہیں کہ ابتدا میں انہوں نے مقامی افراد کے ذریعے بچوں کو تعلیم دلانے کی کوشش کی لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ صرف مالی مدد سے حالات نہیں بدلیں گے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ریوا خان نے کہا کہ مجھے سمجھ میں آگیا کہ اگر واقعی تبدیلی لانی ہے تو خود یہاں آنا پڑے گا۔

مزید پڑھیے: لیاری کی تنگ گلیوں سے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا تک، فلم اور حقیقت میں واضح فرق

آج وہ روزانہ تقریباً 25 کلومیٹر کا سفر طے کرکے اپنی گاڑی میں کٹی پہاڑی پہنچتی ہیں جہاں ان کا بیشتر وقت بچوں کے ساتھ کلاس روم میں گزرتا ہے۔

ریوا خان کے مطابق یہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ ایک بڑے خواب کی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس علاقے کا پہلا مفت پرائمری اسکول ہے اور ہمارا اگلا ہدف یہاں پہلا مفت سیکنڈری اسکول قائم کرنا ہے تاکہ یہ بچے اپنی تعلیم کا سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں۔

اصل کامیابی بچوں کو خواب دیکھنا سکھانا ہے

ریوا خان کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم صرف حروف اور اعداد سکھانے کا نام نہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ بچے خود پر یقین کریں، خواب دیکھیں اور یہ محسوس کریں کہ وہ بھی اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔

راستہ آسان نہیں تھا

اس اسکول کا قیام آسان نہیں تھا۔ ریوا خان کے مطابق ابتدا میں انہیں اور ان کی ٹیم کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف افواہیں پھیلائی گئیں، مخالفت کی گئی، یہاں تک کہ ٹیم پر حملے بھی ہوئے اور معاملہ پولیس تک جا پہنچا۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ چند والدین نے ابتدا ہی سے ان پر اعتماد کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پورے علاقے کا اعتماد بھی حاصل ہوتا چلا گیا۔

مزید پڑھیں: لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی مقدمات سے بریت کی وجوہات کیا ہیں؟

ریوا نے کہا کہ اب ہم نے داخلے بند کر دیے ہیں لیکن اس کے باوجود والدین مسلسل اپنے بچوں کے داخلے کے لیے رابطہ کر رہے ہیں۔

یہ اسکول صرف کتابیں نہیں اعتماد بھی دیتا ہے

مذکورہ اسکول میں بچوں سے نہ داخلہ فیس لی جاتی ہے اور نہ ہی ماہانہ فیس۔

بچوں کو بیگ، کتابیں، کاپیاں، اسٹیشنری، یونیفارم، جوتے اور دیگر تعلیمی سامان بھی مفت فراہم کیا جاتا ہے تاکہ مالی مشکلات کسی بچے کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

اسکول میں صرف نصابی تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ بچوں کو صفائی، نظم و ضبط، ذمہ داری، اعتماد اور بنیادی سماجی رویوں کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق کوشش یہ ہے کہ بچوں کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

ہر بچے کی اپنی کہانی، ہر خواب کی اپنی منزل

اس اسکول میں زیر تعلیم بچوں کے خواب بھی مختلف ہیں۔ کوئی کمپیوٹر کا ماہر بننا چاہتا ہے، کسی کو ریاضی پسند ہے جبکہ ایک طالبہ تو مستقبل میں ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لیاری میں رحمان بلوچ کا ڈیرہ جہاں لوگ اپنے مسائل حل کرانے آتے تھے

بچوں نے اساتذہ کی رہنمائی میں گریٹنگ کارڈز، بک مارکس، آرٹ ورک اور دیگر تخلیقی منصوبے بھی تیار کیے ہیں جو ان کی صلاحیتوں اور اعتماد میں آنے والی تبدیلی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

’گرمیوں کی چھٹیاں کر دیتے تو بچے شاید واپس نہ آتے‘

اسکول کی ٹیچر فصیحہ کے مطابق بیشتر بچے پہلی مرتبہ کسی تعلیمی ادارے کا حصہ بنے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ بچے پہلے چائلڈ لیبر کا شکار تھے جبکہ کئی کا زیادہ وقت گلیوں میں گزرتا تھا اسی لیے انتظامیہ نے گرمیوں کی روایتی چھٹیاں بھی نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ اگر 2 ماہ کے لیے بچوں کو گھر بھیج دیا تو شاید وہ دوبارہ اسکول نہ آ سکیں اس لیے ہم نے سمر اسکول جاری رکھا، مختلف سرگرمیاں کروائیں اور بچوں کو مسلسل تعلیمی ماحول سے جوڑے رکھا۔

چند ماہ میں نمایاں تبدیلی

کمپیوٹر اور انگلش کی ٹیچر بسمہ کے مطابق جب اسکول کا آغاز ہوا تو کئی بچے نہ لکھ سکتے تھے اور نہ ہی باقاعدگی سے کلاس میں بیٹھنے کے عادی تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف چند ماہ میں بچوں کے اعتماد، رویوں اور سیکھنے کی صلاحیت میں واضح تبدیلی آئی ہے اور جو بچے پہلے گلیوں میں گھومتے تھے وہ آج خوشی سے اسکول آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی جھوٹ پر مبنی فلم دھرندھر کے جواب میں پاکستان کا ’میرا لیاری‘ فلم کا اعلان، شائقین پُرجوش

انہوں نے کہا کہ بچے شوق سے ہوم ورک کرتے ہیں اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے بے حد پرجوش رہتے ہیں۔

امید کا ایک چھوٹا سا چراغ

کٹی پہاڑی آج بھی اپنے بہت سے مسائل سے نبرد آزما ہے مگر اسی بستی کے ایک چھوٹے سے اسکول میں ہر روز درجنوں بچے کتابیں کھول کر اپنے مستقبل کی نئی کہانی لکھ رہے ہیں۔ شاید یہی اس اسکول کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے صرف ایک کلاس روم آباد نہیں کیا بلکہ ایسے بچوں کے دلوں میں امید جگائی ہے جن کے لیے تعلیم کبھی ایک ادھورا خواب ہوا کرتی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp