ن لیگ اور آئی پی پی میں بڑھتی دوریوں کی اصل وجہ کیا ہے؟

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اس وقت وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ہے۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی تعاون مضبوط ہوا۔ آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما رہے تاہم عمران خان سے اختلافات بڑھنے کے بعد انہوں نے پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ بعد ازاں 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد آئی پی پی ایک باقاعدہ نئی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیں: عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

فروری 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور آئی پی پی نے خصوصاً پنجاب میں انتخابی تعاون کیا تاہم سال 2026 میں دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اب عبدالعلیم خان سمیت دیگر رہنما حالیہ دنوں میں مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔

سیاسی حلقوں کے مطابق اس بڑھتی ہوئی تنقید کے پس منظر میں مختلف سیاسی اور انتظامی معاملات کے علاوہ لاہور میں واقع پارک ویو سٹی سے متعلق معاملات کو بھی اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے باعث اتحادی جماعتوں کے تعلقات میں تناؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

لاہور میں پارک ویو سٹی کی ایکسٹنشن کی منظوری کے معاملے پر آئی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق آئی پی پی کے صدر اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان پارک ویو سوسائٹی کی ایکسٹینشن کی منظوری چاہتے ہیں تاہم پنجاب حکومت اس کی اجازت دینے سے گریزاں ہے۔

اس تنازعے کی بنیاد گزشتہ سال اگست 2025 میں آنے والے سیلاب سے جڑی ہوئی ہے۔ اس دوران دریائے راوی میں طغیانی کے باعث پارک ویو سٹی کے کئی بلاکس میں سیلابی پانی داخل ہوگیا تھا جس پر رہائشیوں نے شدید احتجاج کیا۔

مزید پڑھیے: استحکام پاکستان پارٹی وفاقی سیاسی قوت، عمران خان کے برعکس علیم خان کام زیادہ اور باتیں کم کرتے ہیں، گل اصغر خان

ابتدا میں عبدالعلیم خان نے دعویٰ کیا تھا کہ سوسائٹی محفوظ ہے تاہم بعد ازاں انہوں نے متاثرہ رہائشیوں کو معاوضہ دینے اور دریائے راوی پر مضبوط حفاظتی بند تعمیر کرنے کا وعدہ کیا۔ ستمبر 2025 میں انہوں نے 30 فٹ بلند حفاظتی بند کا سنگِ بنیاد رکھا اور ایک ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان بھی کیا۔ اس وقت بند کی تعمیر کا کام روڈا اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے جاری ہے۔

تاہم پارک ویو سٹی کے ایکسٹنشن بلاکس کی حتمی منظوری کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔ پارک ویو کے بنیادی بلاکس لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی منظوری کے تحت ہیں جبکہ ایکسٹینشن کے علاقے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عبدالعلیم خان ایکسٹنشن کی منظوری چاہتے ہیں لیکن پنجاب حکومت اب تک اس کی اجازت نہیں دے رہی جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی پی پی موجودہ وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور آئی پی پی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ن لیگ نے قومی اسمبلی کی تقریباً 7 اور پنجاب اسمبلی کی 11 نشستوں پر اپنے امیدوار میدان میں نہیں اتارے تھے تاکہ آئی پی پی کے امیدواروں کی حمایت کی جا سکے۔ ان نشستوں میں لاہور کی این اے 117 سے عبدالعلیم خان، این اے 128 سے عون چوہدری اور پی پی 149 سمیت دیگر حلقے شامل تھے۔ اس کے باوجود حالیہ دنوں میں آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان نے میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) پر کھل کر تنقید کی ہے۔

مزید پڑھیں: عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

عبدالعلیم خان کے ان بیانات پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود عبدالعلیم خان کی ووٹر رہی ہیں اور انہیں ووٹ دے چکی ہیں۔

عظمیٰ بخاری کے مطابق جب آئی پی پی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی عون چوہدری کو ووٹ ڈالنا تھا تو میاں نواز شریف خود جاتی عمرہ سے ماڈل ٹاؤن گئے اور اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت عون چوہدری اور عبدالعلیم خان کو یاد رکھنی چاہیے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ عبدالعلیم خان ایک ایسے رہنما پر تنقید کر رہے ہیں جو 3 مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور جنہوں نے ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور سڑکوں کا وسیع جال بچھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آج کہیں سڑکیں خراب ہیں اور انہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے تو یہ وفاقی وزیر مواصلات کی حیثیت سے عبدالعلیم خان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عبدالعلیم خان کی یادداشت کمزور ہوگئی ہے اور وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: خواجہ آصف کا علیم خان کو استعفیٰ دینے اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا مشورہ

سیاسی حلقوں میں اس کشیدگی کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ دونوں جماعتیں وفاقی حکومت میں اتحادی ہیں جبکہ سنہ 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے متعدد حلقوں میں اپنے امیدوار دستبردار کرواکر آئی پی پی کی حمایت بھی کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسکول لنچ باکس میں ‘صرف آلو’: وائرل ویڈیو نے بچوں کی غذائیت اور پروٹین کی کمی پر نئی بحث چھیڑ دی

جنوبی سوڈان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی عالمی کوششوں کی حمایت کا اعادہ

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم 10 خوارج ہلاک، آئی ایس پی آر

بھارت: گجرات کا پراسرار کنواں ایک بار پھر توجہ کا مرکز، پانی خود بخود لہریں لینے لگا

شور شرابے سے تنگ بوڑھے نے پڑوسن، اس کی جوان بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کرلی

ویڈیو

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟