بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد کرنے پر ن لیگ میں اختلافات، کیا پہلے روز ہی پارٹی میں فارورڈ بلاک بن گیا؟

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے سے پہلے ہی پارٹی کے اندر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے معاملے پر اختلافات نے نئی سیاسی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے ٹیکنوکریٹ رکن اسمبلی بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کردیا ہے، لیکن اس فیصلے کو پارٹی کے بعض اہم رہنماؤں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے افتخار گیلانی کو الیکشن میں شکست دینے والے سردار مختار کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں افتخار گیلانی کے نام پر اتفاق کیا گیا، تاہم مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کون ہوگا وزیراعظم آزاد کشمیر؟ نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے کرلیے گئے، اعلان آج متوقع

یہ اختلاف محض ایک نام پر اتفاق نہ ہونے تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے یہ سوال بھی موجود ہے کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی قیادت کس سیاسی شخصیت کے ہاتھ میں ہونی چاہیے اور پارٹی کی مرکزی قیادت اور آزاد کشمیر کی مقامی قیادت کے درمیان فیصلوں کا توازن کیسے قائم ہوگا۔

افتخار گیلانی اچانک وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں کیسے آئے؟

بیرسٹر افتخار گیلانی حالیہ آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے، تاہم وہ اپنی براہِ راست نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بعد ازاں انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کا رکن بنایا گیا۔

یہی پہلو اب ان کی وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی کے حوالے سے ہونے والی بحث کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں اور ذرائع کے مطابق سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب پارٹی کے متعدد امیدوار براہِ راست عوام کے ووٹ لے کر اسمبلی میں پہنچے ہیں تو وزارتِ عظمیٰ کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کیوں کیا گیا جو عام انتخابات میں اپنی نشست ہارنے کے بعد مخصوص نشست کے ذریعے ایوان کا حصہ بنے؟

دوسری طرف افتخار گیلانی کے حامیوں کا مؤقف یہ ہے کہ ٹیکنوکریٹ نشست آئینی طور پر اسمبلی کا حصہ ہے اور اس نشست پر منتخب ہونے والا رکن بھی قائدِ ایوان بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔

یوں معاملہ صرف اس بات کا نہیں کہ افتخار گیلانی براہِ راست نشست جیتے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی حکومت کی قیادت کے لیے کس سیاسی معیار کو ترجیح دے رہی ہے۔

شاہ غلام قادر کا نام کہاں گیا؟

آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے ابتدائی طور پر مسلم لیگ (ن) کے آزاد کشمیر صدر شاہ غلام قادر کا نام نمایاں تھا۔ پارٹی کے اندر انہیں مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا اور حکومت سازی کے ابتدائی مرحلے میں بھی ان کا نام وزارتِ عظمیٰ کے لیے زیرِ غور رہا۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت بنانے جارہی ہے، وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، محمد حنیف ملک

لیکن افتخار گیلانی کے نام پر مرکزی سطح پر فیصلہ سامنے آنے کے بعد صورتِ حال تبدیل ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر نے افتخار گیلانی کی قیادت قبول کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شاہ غلام قادر کو صدر آزاد کشمیر کا منصب دینے کی تجویز پر بھی غور ہوا، تاہم انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔

شاہ غلام قادر نے افتخار گیلانی کو وزیراعظم کے لیے نامزد کیے جانے پر سوشل میڈیا پر ایک بیان بھی جاری کیا جس میں نامزد وزیراعظم کا نام لیے بغیر اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

راجا فاروق حیدر کا اختلاف کیوں اہم ہے؟

راجا فاروق حیدر آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم اور تجربہ کار رہنما ہیں اور خود بھی وزیراعظم آزاد کشمیر رہ چکے ہیں۔

اس لیے ان کا کسی امیدوار کے معاملے پر تحفظات کا اظہار پارٹی کے لیے محض ایک داخلی اختلاف نہیں بلکہ ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق افتخار گیلانی کی جانب سے حمایت حاصل کرنے کے لیے شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر سے رابطہ بھی کیا گیا، لیکن دونوں رہنماؤں نے ان کی حمایت سے اتفاق نہیں کیا۔

اگر یہ اختلاف برقرار رہتا ہے تو مسلم لیگ (ن) کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے ہی ارکانِ اسمبلی کو ایک امیدوار کے پیچھے متحد رکھنا ہوگا۔

کیا ن لیگ کے اندر دو دھڑے بن گئے ہیں؟

تازہ اطلاعات کے مطابق افتخار گیلانی کے حامی ارکان اسمبلی بھی متحرک ہو چکے ہیں اور پارٹی کے اندر حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب شاہ غلام قادر کے حامی بھی اپنی پوزیشن پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔ یوں بظاہر مسلم لیگ (ن) کے اندر وزارتِ عظمیٰ کے معاملے پر دو رائے سامنے آ گئی ہیں۔

ایک طرف مرکزی قیادت کی جانب سے افتخار گیلانی کے نام کی حمایت ہے، جبکہ دوسری طرف آزاد کشمیر کی پارٹی قیادت کے بعض اہم رہنما اس فیصلے پر تحفظات رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی کا آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا فیصلہ، نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ فیصلہ آصف زرداری پر چھوڑ دیا گیا

یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس آزاد کشمیر اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ عددی پوزیشن موجود ہے، لیکن وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب میں پارٹی ارکان کی یکجہتی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔

اسمبلی کا اجلاس ایک دن کے لیے کیوں مؤخر ہوا؟

وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس پہلے 27 اگست کو ہونا تھا، تاہم اب انتخاب 28 اگست کو ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار پر پیدا ہونے والے اختلافات بھی اجلاس کے مؤخر ہونے کی وجوہات میں شامل ہیں اور اس ایک روز کی تاخیر نے سیاسی قیادت کو مزید مشاورت کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

مرکزی قیادت بمقابلہ آزاد کشمیر کی قیادت؟

موجودہ تنازعے کا ایک بڑا پہلو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور آزاد کشمیر کی قیادت کے درمیان اختیار اور سیاسی ترجیحات کا فرق بھی ہے۔

مرکزی قیادت کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ایسی حکومت قائم ہو جو پارٹی کی مجموعی سیاسی حکمتِ عملی کے ساتھ چل سکے۔

اس کے برعکس آزاد کشمیر کے مقامی رہنما اس بات کو اہم سمجھتے ہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار مقامی سیاسی حقائق، انتخابی مینڈیٹ اور پارٹی کے اندر موجود دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور سب سے بڑھ کر عوامی ایکشن کمیٹی کے مسئلے کو حل کرنے کی بھی سمجھ بوجھ ہو۔

افتخار گیلانی کے لیے اصل امتحان کیا ہوگا؟

اگر افتخار گیلانی 28 اگست کو وزیراعظم منتخب ہوتے ہیں تو ان کے سامنے سب سے پہلا چیلنج اپنی ہی جماعت کے اندر موجود اختلافات ختم کرنا ہوگا۔

صرف وزارتِ عظمیٰ کا منصب حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ انہیں شاہ غلام قادر، راجا فاروق حیدر اور دیگر ناراض یا تحفظات رکھنے والے رہنماؤں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

کیونکہ اگر پارٹی کے اندر اختلافات حکومت بننے کے بعد بھی برقرار رہے تو قانون سازی، کابینہ کی تشکیل اور حکومتی فیصلوں میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

اس کے برعکس اگر مرکزی قیادت اختلاف ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور تمام اہم رہنما ایک امیدوار پر متفق ہو جاتے ہیں تو موجودہ تنازعہ چند دنوں میں ختم بھی ہو سکتا ہے۔

کیا 28 اگست کو فیصلہ ہوجائے گا؟

فی الحال سب کی نظریں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس پر ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے لیے مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے پاس حکومت بنانے کے لیے عددی قوت موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس عددی قوت کو ایک متفقہ امیدوار کے پیچھے کیسے کھڑا کیا جائے۔

افتخار گیلانی کی نامزدگی کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات نے وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کو محض ایک رسمی کارروائی کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے اندر طاقت کے توازن کا امتحان بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری، کون ہوگا قائد ایوان؟ نام سامنے آگیا

اگر پارٹی قیادت شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر سمیت ناراض رہنماؤں کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہوگئی تو افتخار گیلانی کے لیے راستہ نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر اختلاف برقرار رہا تو 28 اگست کا انتخاب آزاد کشمیر کی نئی حکومت کے پہلے ہی دن مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود سیاسی اختلافات کو کھل کر سامنے لا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے کچھ رہنماؤں نے نواز شریف تک یہ شکایات پہنچائی ہیں کہ راجا مشتاق منہاس اور افتخار گیلانی کے الیکشن ہارنے میں پس پردہ راجا فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر کا ہاتھ ہے۔

راجا فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر بغاوت کے متحمل نہیں ہو سکتے، راجا کفیل احمد

سینیئر صحافی راجا کفیل احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر مرکزی قیادت کے فیصلے سے اختلاف کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہاکہ افتخار گیلانی کو نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ ریاست کی موجودہ صورت حال کو سنبھال پائیں گے یا نہیں۔

راجا کفیل احمد کے مطابق افتخار گیلانی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنا ہوگا، اس کے علاوہ جماعت کے اندر موجود اختلافات کو ختم کرنا بھی ان کا امتحان ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ 2021 میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ایسا ہی تجربہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک اسمبلی میں 4 وزرائے اعظم تبدیل ہوگئے، اور اب اس نئی اسمبلی میں 5 وزیراعظم بھی آ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ گزشتہ دنوں مری میں ہونے والے اجلاس میں نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر ہمارے کچھ ارکان کے الیکشن ہارنے میں پارٹی کے اندر سے کوئی ملوث ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بننے کی باتیں قبل از وقت ہیں۔ افتخار گیلانی کامیاب ہوں گے یا ناکام، اس کا فیصلہ وقت کرےگا۔

پارٹی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، خواجہ اے متین

سینیئر صحافی خواجہ اے متین نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر نے کھل کر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ افتخار گیلانی اب وزیراعظم بن جائیں گے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ نظام کو چلانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں، اور یہ وقت ہی بتائےگا۔

خواجہ اے متین نے کہاکہ شاہ غلام قادر کی قیادت میں مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی ہے، اور اشاروں سے تو یہی لگ رہا تھا کہ انہی کو وزیراعظم بنایا جائےگا لیکن فیصلہ توقعات کے برعکس آیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ افتخار گیلانی بحیثیت وزیراعظم کامیاب ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ وقت کرےگا، اور اگر ناکام ہوگئے تھے تو پھر اس اسمبلی میں 4 کے بجائے 5 وزیراعظم بھی آ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خراماں خراماں: روپے کی قدر مسلسل مضبوطی کی سمت گامزن، جانیے یہ سلسلہ کب سے جاری ہے؟

ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ جاری

حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس، عوام کو بجلی کے نئے کنکشنز کی فراہمی کا عمل آسان بنانے کا فیصلہ

سعودی وزیر کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال

نیپال میں تباہ کن سیلابی ریلے سے 552 افراد ہلاک، 1,400 سے زیادہ لاپتا، پاکستان کا ہنگامی امداد بھیجنے کا اعلان

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ