سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کردی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کرسکتا۔ پاکستانی حکام اور آبی امور کے ماہرین نے فیصلے کو اہم قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب پاکستان کو اس فیصلے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا، جبکہ بھارت پر معاہدے کی پاسداری کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کی تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے پاکستان کو عزت ملی اور بھارت کا یہ مؤقف مسترد ہوگیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا روک سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی ثالثی عدالت نے واضح کردیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوسکتا اور اسے معاہدے پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ بھارت کے لیے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، عطااللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ قانونی اور عالمی اصولوں کے منافی تھا۔ پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت میں اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا اور عدالت کے فیصلے سے پاکستان کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے یا معاہدے کی خلاف ورزی کی کوشش کی تو پاکستان اپنے قانونی حق کے استعمال سمیت ہر سطح پر آواز بلند کرے گا۔
سابق سیکرٹری خارجہ جوہر سلیم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اٹھایا گیا اقدام قانونی طور پر خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے سے پاکستانی مؤقف کی تائید ہوئی ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان کو جو حقوق اور اختیارات حاصل ہیں، ان کے استعمال سے بھارت پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے۔
جوہر سلیم نے کہا کہ عالمی برادری میں بھی یہ تاثر موجود ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کا مؤقف درست نہیں اور اسے معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے عالمی سطح پر بھارت پر دباؤ بڑھے گا، نئی دہلی کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کئی برس کی مذاکراتی کوششوں کے بعد طے پایا تھا اور اس میں عالمی بینک نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ دستاویز ہے اور بھارت خود اسے اقوام متحدہ میں رجسٹر کرانے کے لیے گیا تھا، اس لیے یکطرفہ طور پر اس کی حیثیت ختم کرنے کا مؤقف قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے بھی عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کے لیے بڑی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 23 اپریل 2025 کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاہدے کی شقیں اب اس پر لاگو نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد پاکستان نے معاملہ عالمی ثالثی عدالت کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مؤقف یہی تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کرسکتا اور عدالت نے اسی مؤقف کی تائید کی ہے۔ فیصلے کے مطابق بھارت معاہدے پر عملدرآمد روک نہیں سکتا، بصورت دیگر معاہدے کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی سامنے آسکتا ہے۔
مہر علی شاہ کے مطابق پاکستان نے رتلے ڈیم کی تعمیر سے متعلق بھی عدالت سے رجوع کیا تھا اور اس حوالے سے پاکستان کی درخواست منظور کی گئی ہے۔ ان کے بقول پانچ رکنی عدالت نے اس معاملے پر متفقہ فیصلہ دیا، جسے پاکستان اپنے قانونی مؤقف کی اہم کامیابی سمجھتا ہے۔
آبی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے لیے اہم قانونی پیش رفت ہے کیونکہ پاکستان نے اپنا قانونی جواز عالمی سطح پر پیش کردیا ہے۔ ان کے مطابق اب حکومت کو صرف فیصلے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے سفارتی محاذ پر بھی بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر حسن عباس نے کہا کہ اگر کوئی ملک عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی اور دیگر اقدامات کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے سفارتی مشنز کے ذریعے مختلف ممالک کو فیصلے سے آگاہ کرے اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کے اقدامات کا معاملہ مؤثر انداز میں اٹھائے۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی اہم کامیابی ہے، سرفراز بگٹی
ان کے مطابق پاکستان عالمی فورمز پر یہ مؤقف اختیار کرسکتا ہے کہ بھارت بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا اور عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے باوجود اگر خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو عالمی برادری کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
ڈاکٹر حسن عباس نے مزید کہا کہ پاکستان کو اب اپنے مؤقف کو ایک قدم آگے لے جانے کی ضرورت ہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے تمام قانونی حقوق کے استعمال پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اس معاملے کو صرف بھارت کے خلاف شکایت تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے طویل المدتی قانونی اور سفارتی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔














