پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور استحکام کی شاندار تعریف کرتے ہوئے نجی شعبے، چھوٹے کاروباروں اور برآمدات کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اے ڈی بی کے نائب صدر نے وزیر خزانہ کو میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی نظم و نسق، بیرونی کھاتوں کی بہتری اور مجموعی معاشی صورتحال پر مبارکباد دی۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اس موقع پر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ اب محض معاشی استحکام سے آگے بڑھ کر ’پائیدار اور جامع ترقی‘ پر مرکوز ہے، جس میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور نجی شعبے کی شمولیت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے بینک کی جانب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کے لیے فنڈنگ کی فراہمی کا بھی خیرمقدم کیا۔

ایس ایم ایز اور عالمی سپلائی چین کی اہمیت

ملاقات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے پر خصوصی بات چیت ہوئی۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی پاکستان کی برآمدی اور ترقیاتی حکمت عملی کا اہم ترین جزو ہے۔

اے ڈی بی کے نائب صدر نے حکومت کے اس ایجنڈے کو سراہتے ہوئے نجی شعبے کی ترقی اور ایس ایم ای ویلیو چین فنانسنگ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مالیاتی نظم و ضبط اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر زور

ینگ منگ یانگ نے پاکستان کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری کو ملکی معاشی بنیادی اصولوں اور حکومتی اصلاحات کا نتیجہ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کی ترقی کے لیے ‘مالیاتی احتیاط’ کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں:اسلامی چیمبر کے سیکریٹری جنرل کی وزیر خزانہ سے ملاقات، اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

اس پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ حکومت محصولات، توانائی، پنشن اور انشورنس کے شعبوں میں کی جانے والی اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ٹرانسپورٹ، صاف توانائی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور آبی وسائل کے انتظام کے حوالے سے بھی تعاون بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیا۔

برآمد کنندگان اور ایس ایم ایز کے لیے حالیہ اقدامات

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی پاکستان نے اپنے برآمدی فنانسنگ کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے 2 اہم معاہدے کیے ہیں۔

31 اگست کو ‘پاک ایگزم’ اور اسلامی کارپوریشن فار انشورنس آف انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ نے ری انشورنس کی شراکت داری پر دستخط کیے تھے۔

علاوہ ازیں  ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اور پاک ایگزم کے اشتراک سے تقریباً 3 ارب روپے کے ‘ایس ایم ای رسک پول’ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عدم ادائیگی کے خطرات سے محفوظ رکھتے ہوئے ان کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp