ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے اڈا سراج، ناروال میں ہندو مندر کے بارے میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے پریس ریلیز اور میڈیا سوالات پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ترجمان نے کہا کہ بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس، مندر کے ڈھانچے کو 21 جولائی 2026 کو ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث نقصان پہنچا تھا۔ واقعے کے فوری بعد مقامی حکام نے بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا اور عمارت کی مرمت و بحالی کے اقدامات کا باقاعدہ آغاز کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے گنگا جمنی تہذیب سے ہندوتوا تک
ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ بھارت حقائق کو مسخ کر رہا ہے اور سستے سیاسی ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقائق کی اس طرح عمدًا توڑ مروڑ کا مقصد اقلیتوں پر جاری بھارتی مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔ بھارت کا اپنا ریکارڈ اقلیتوں کے منظم استحصال اور مذہبی مقامات پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے حملوں سے بھرا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: رام مندر میں 200 کروڑ روپے کی خردبرد، تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے
ترجمان دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ دنیا ہندوتوا نظریے کو اقلیتوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیے جانے سے خوب واقف ہے، اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسلم، سکھ اور عیسائی برادریوں کے استحصال پر بھارتی قیادت کا محاسبہ کرے۔














