عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی کے باعث مرکزی بینک اپنے سونے کے ذخائر کے تحفظ اور فوری دستیابی پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔
اسی سلسلے میں نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے امریکا اور کینیڈا میں موجود اپنے سونے کے ذخائر میں سے 86 ٹن سونا لندن منتقل کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں عالمی اور مقامی مارکیٹ میں اضافہ
ڈچ مرکزی بینک کے مطابق مارچ سے اگست کے دوران منتقل کیا گیا سونا اب بینک آف انگلینڈ کے محفوظ خزانے میں رکھا گیا ہے۔
نیدرلینڈز کے پاس امریکا اور کینیڈا میں مجموعی طور پر تقریباً 313 ٹن سونا موجود تھا۔
Central Banks Are Choosing Gold Over US Treasuries Right Now
Foreign nations are pulling BILLIONS of dollars worth of gold OUT of the U.S.
→ 🇳🇱 Netherlands: 86 tonnes
→ 🇫🇷 France: 129 tonnes
→ 🇩🇪 Germany: 300 tonnes pic.twitter.com/lhOM1aVc8H— David 🥇🦍🥈the Ape (@patato_ass) September 4, 2026
بینک کا کہنا ہے کہ سونے کی منتقلی کا مقصد کسی فوری معاشی بحران کی پیش گوئی نہیں بلکہ ملک کو ممکنہ شدید بحرانوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ مضبوط اور تیار رکھنا ہے۔
مرکزی بینک کے گورنر اولاف سلیپن نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ان ذخائر کو کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، تاہم موجودہ عالمی حالات میں ملکی مالیاتی ذخائر کی لچک اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کینیڈا تجارتی مذاکرات ناکام، ٹرمپ کی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی
لندن کو سونے کے ذخیرے کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا کہ یہ دنیا کے اہم ترین سونے کے تجارتی مراکز میں شامل ہے۔
بینک آف انگلینڈ دنیا کے بڑے سونے کے محافظ اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے زیرِ حفاظت تقریباً 400,000 سونے کی اینٹیں موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت 200 ارب پاؤنڈ سے زائد ہے۔
Why is the Netherlands moving billions of dollars worth of gold from North America to London? @nicolesyLIVE explains https://t.co/Ut0cHnedvQ pic.twitter.com/wfBG5DZbAo
— Bloomberg (@business) September 3, 2026
ماہرین کے مطابق نیدرلینڈز کا اقدام غیر معمولی نہیں، کیونکہ فرانس بھی رواں سال امریکا سے اپنے سونے کے ذخائر واپس منتقل کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔
دوسری جانب جرمنی کا مرکزی بینک گزشتہ برسوں میں نیویارک اور پیرس سے 216 ٹن سے زائد سونا منتقل کرچکا ہے۔
مزید پڑھیں: لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق جنگوں، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے علاوہ افراطِ زر، شرح سود اور سونے کو ایسے مقام پر رکھنے کی ضرورت جہاں اسے فوری طور پر خریدا یا فروخت کیا جاسکے، بھی مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
گزشتہ 4 برسوں کے دوران مرکزی بینکوں نے سالانہ اوسطاً تقریباً ایک ہزار ٹن سونا خریدا، جو اس سے پچھلی دہائی کی 500 ٹن سالانہ اوسط سے تقریباً دوگنا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 24 ملزمان گرفتار
سونے کی بڑھتی ہوئی طلب نے اس کی قیمت کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ جنوری 2026 میں سونے کی قیمت پہلی بار 5,000 ڈالر فی ٹرائے اونس سے تجاوز کرگئی تھی۔
اگرچہ قیمت ریکارڈ سطح سے کچھ نیچے آئی ہے، تاہم تاریخی اعتبار سے اب بھی بلند ہے۔
گولڈمین ساکس کے مطابق 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت 4,900 ڈالر فی ٹرائے اونس تک پہنچ سکتی ہے۔














