اقوام متحدہ نے دنیا کا نیا نقشہ منظور کرلیا، افریقہ کو زیادہ بڑا دکھایا جائے گا

ہفتہ 5 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کا نقشہ زیادہ درست انداز میں دکھانے کے لیے ایک نئی قرارداد منظور کرلی ہے، جس کے تحت ایسے نقشے کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جس میں افریقہ اور دیگر براعظم اپنے اصل رقبے کے زیادہ قریب نظر آتے ہیں۔ قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ امریکا نے مخالفت کی اور 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی قرارداد میں ’مساوی زمین‘ نقشے کی حمایت کی گئی ہے، جس میں افریقہ، لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور اوشیانا پہلے استعمال ہونے والے نقشے کے مقابلے میں زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مرکیٹر کے بنائے نقشے کے بجائے نئے نقشے کو استعمال کریں۔ مرکیٹر نقشہ 1569 میں سمندری سفر اور راستوں کی رہنمائی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم اس میں دنیا کے مختلف علاقوں کے رقبے درست تناسب سے دکھائی نہیں دیتے۔

اس نقشے میں شمالی علاقوں، خصوصاً یورپ اور شمالی امریکا، اپنے اصل رقبے سے کہیں بڑے نظر آتے ہیں، جبکہ خط استوا کے قریب موجود افریقہ اور جنوبی امریکا نسبتاً چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ گول زمین کو کاغذ کے سیدھے نقشے پر دکھانے کا مسئلہ ہے۔

نئے ’مساوی زمین‘ نقشے کو 2018 میں ماہرین نقشہ سازی نے تیار کیا تھا۔ اس کا مقصد براعظموں کے رقبے کو زیادہ درست تناسب سے دکھانا ہے تاکہ دنیا کے مختلف خطوں کے بارے میں لوگوں کا تصور زیادہ حقیقت کے قریب ہو۔

یہ بھی پڑھیں:افریقی یونین نے ’نقشہ صحیح کرو‘ مہم کیوں شروع کی؟

قرارداد ٹوگو نے پیش کی تھی۔ ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے کہا کہ نقشے صرف جغرافیہ نہیں دکھاتے بلکہ تعلیم اور لوگوں کے تصورات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

تاہم امریکا نے قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو نقشوں کے بجائے دنیا کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ فرانس نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ روایتی مرکیٹر نقشے کو ترک کرکے نئے نقشے کے استعمال کی طرف جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp