پنجاب ماڈل کی طرز پر تیز رفتار ترقی، عوام کو بنیادی سہولیات دہلیز تک پہنچانے اور حکومتی نظام میں بہتری کے لیے آزادکشمیر حکومت نے پہلے 100 دنوں کے اصلاحاتی و ٹرانسفارمیشن پروگرام کو عملی شکل دینا شروع کردی ہے۔
وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کی حکومت نے صحت، تعلیم، نوجوانوں کے لیے مواقع، عوامی سہولیات، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کو پروگرام کی بنیادی ترجیحات قرار دیا ہے، جبکہ موبائل اسپتال، گرین بسیں اور دیگر عوامی فلاحی و ترقیاتی منصوبے بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کی زیر صدارت اجلاس، پنجاب کی طرز پر تیز رفتار ترقیاتی عمل آگے بڑھانے کا اعلان
وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پروگرام کے خدوخال، ترجیحات اور عملی اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دوسری جانب کابینہ کے 8 وزرا میں محکموں کی تقسیم بھی مکمل کردی گئی ہے، جس کے بعد حکومت کے انتظامی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے ذمہ داریاں واضح ہوگئی ہیں۔
100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا، ریاست میں ترقیاتی عمل کو نئی رفتار دینا، حکومتی نظام میں بہتری لانا اور عام آدمی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ افتخار گیلانی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد لاہور میں صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد 100 روزہ اصلاحاتی منصوبہ سامنے آیا تھا۔
اس منصوبے میں صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے دیگر شعبوں میں بہتری پر توجہ دی گئی ہے اور آزادکشمیر کو پنجاب میں نافذ کیے گئے ترقیاتی ماڈل کی طرز پر جدت اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
ہفتے کے روز وزیراعظم افتخار گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں قائم مقام صدر طارق فاروق نے خصوصی شرکت کی، جبکہ سابق وزیراعظم راجا محمد فاروق حیدر خان، وزرا کرام، ممبران اسمبلی اور سیکریٹریز حکومت بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صدر مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے ویژن کے مطابق 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے ذریعے آزادکشمیر میں ترقی، سہولیات اور عوامی خدمت کے نئے دور کا آغاز کیا جائے گا۔
حکومت نے ترجیحات طے کرلیں
اجلاس میں حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی و ٹرانسفارمیشن پروگرام کے خدوخال، ترجیحات اور عملی اقدامات سمیت دیگر امور زیر غور آئے۔
سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عامر لطیف نے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ پروگرام میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کے لیے مواقع، عوامی سہولیات، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ 100 روزہ پروگرام محض اعلانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسے اقدامات اور منصوبے شروع کیے جائیں گے جن کے اثرات براہ راست عام شہری تک پہنچ سکیں۔
کابینہ کو محکموں کی تقسیم، حکومتی کام کا باقاعدہ آغاز
حکومت کی جانب سے کابینہ کے وزرا کو محکموں کی تقسیم بھی کردی گئی ہے، جس سے نئی حکومت کے انتظامی ڈھانچے نے عملی شکل اختیار کرلی ہے۔
وزیراعظم کی منظوری کے بعد جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سردار میر اکبر خان کو فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ اور باغ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، وقار احمد نور کو جنگلات، وائلڈ لائف اور فشریز، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کو صحت عامہ، اظہر صادق کو ہائیر ایجوکیشن، ثاقب مجید راجا کو توانائی و آبی وسائل، راجا ریاست خان کو مال و بحالیات، سردار عمیر نعیم کو ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن جبکہ عبدالرحمان آرائیں کو سیاحت، صنعت، محنت اور معدنی وسائل کے محکمے تفویض کیے گئے ہیں۔
محکموں کی تقسیم کے بعد اب وزرا کو اپنے اپنے محکموں میں حکومتی ترجیحات کے مطابق کام آگے بڑھانے کی ذمہ داریاں مل گئی ہیں، جس کے ساتھ ہی نئی حکومت کے ابتدائی انتظامی مرحلے نے بھی عملی شکل اختیار کرلی ہے۔
’موبائل اسپتال، گرین بسیں اور عوامی منصوبے ترجیحات میں‘
وزیراعظم افتخار گیلانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کی حکومت قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے وژن کے مطابق عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی اور عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اس کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ وفاق اور پنجاب کے تعاون سے شروع ہونے والے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت موبائل اسپتال، گرین بسیں اور دیگر عوامی فلاحی و ترقیاتی منصوبے زمین پر دکھائی دیں گے۔
’عام آدمی کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سہولیات دینے کا عزم‘
افتخار گیلانی نے کہاکہ حکومت کا مشن عام آدمی کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی، نظام میں بہتری اور ترقیاتی عمل کو تیز تر بنانا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کی حکومت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کے ذریعے عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی، عام آدمی کے مسائل کے حل اور حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہاکہ آزادکشمیر میں پنجاب کی طرز پر تیز رفتاری، مؤثر حکمت عملی اور نتیجہ خیز انداز میں ترقیاتی کام آگے بڑھائے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیاکہ حکومت کی توجہ ایسے منصوبوں پر مرکوز ہوگی جن کے براہِ راست اور فوری ثمرات عام شہری تک پہنچ سکیں۔
تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر توجہ
حکومت کے 100 روزہ پروگرام میں صحت اور تعلیم کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اسی طرح انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ریاست میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا منصوبہ بھی پروگرام کا حصہ ہے۔
ہائیر ایجوکیشن اور ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن کے الگ الگ قلمدانوں کی تقسیم کے بعد تعلیم کے شعبے میں حکومتی ترجیحات پر عملدرآمد کی ذمہ داری متعلقہ وزرا کو سونپ دی گئی ہے، جبکہ صحت عامہ کی ذمہ داری ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کے پاس ہوگی۔
اسی طرح توانائی و آبی وسائل، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ، جنگلات، سیاحت، صنعت اور دیگر اہم شعبوں کے لیے بھی وزرا کو ذمہ داریاں تفویض کردی گئی ہیں۔
حکومتی مشینری کو متحرک کرنے کی تیاری
100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے حوالے سے ہونے والا اعلیٰ سطح اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی حکومت نے اپنے ابتدائی اہداف اور ترجیحات طے کرنے کے بعد اب انہیں عملی شکل دینے کا مرحلہ شروع کردیا ہے۔
کابینہ کی تکمیل، وزرا کو محکموں کی تقسیم اور اصلاحاتی پروگرام کے خدوخال پر اعلیٰ سطح مشاورت کے بعد حکومت کے سامنے اب اصل چیلنج ان اعلانات کو مقررہ مدت میں عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔
حکومت کی جانب سے ایسے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جن کے نتائج عام شہری کو براہ راست محسوس ہوں، جبکہ فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی عمل میں تیزی کو 100 روزہ پروگرام کا بنیادی محور قرار دیا گیا ہے۔
کابینہ کی تشکیل اور محکموں کی تقسیم کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے اب سیاسی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی سمت قدم بڑھا دیا ہے، جبکہ آنے والے 100 دن حکومت کی کارکردگی، اصلاحاتی ایجنڈے اور عوامی ریلیف کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر فوری عملدرآمد شروع کیا جائے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی بیوروکریسی کو ہدایت
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر افتخار گیلانی 100 روزہ اصلاحاتی منصوبے پر عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہوگئے تو عوام کا نظام پر اعتماد بحال ہوگا، جس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔













