ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پیچیدہ قومی اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط اداروں، بہتر طرز حکمرانی، شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی اور مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ان کے مطابق پاکستان کو ٹیکنالوجی، زراعت، بحری امور، علاقائی روابط اور بدلتے ہوئے تزویراتی ماحول میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ دیرینہ سماجی اور معاشی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
یہ بات انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کی نیشنل ایڈوائزری کونسل کے سالانہ اجلاس میں کہی گئی جس میں پالیسی سازوں، سفارت کاروں، ٹیکنوکریٹس، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے کی جبکہ وائس چیئرمین آئی پی ایس سفیر (ر) سید ابرار حسین نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
شرکا نے پاکستان کے مستقبل کے لیے دوراندیش، عملی، پائیدار اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔ اجلاس نے آئی پی ایس کے آئندہ تحقیقی ایجنڈے کے لیے بھی فکری رہنمائی فراہم کی۔
حکمرانی کو عوام کے قریب لانے پر زور
اجلاس میں کہا گیا کہ نائن الیون کے بعد عالمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں جبکہ پاکستان کو اب بھی حکمرانی، معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور سلامتی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
طرزِ حکمرانی کے حوالے سے شرکا نے کہا کہ مسائل کا حل صرف نئے صوبے بنانے یا انتظامی حدود کی ازسر نو تقسیم میں نہیں بلکہ حکمرانی کے نظام کو مؤثر بنانے میں ہے۔
انہوں نے بلدیاتی اور شہری اداروں کو مضبوط بنانے، سیاسی مداخلت کم کرنے اور فیصلہ سازی و عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے شفاف نظام قائم کرنے پر زور دیا۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ’چارٹر سٹیز‘ کے تصور پر بھی غور کیا گیا۔
زراعت کو معیشت اور غذائی تحفظ سے جوڑنے کی ضرورت
شرکا نے زراعت کو ملکی معیشت، برآمدات، روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
انہوں نے خاص طور پر خوردنی تیل سمیت اہم زرعی اجناس کے معاملے میں درآمدات پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں پانی اور آبپاشی کے بہتر انتظام، فصلوں کی مؤثر منصوبہ بندی، کاشت کاروں کی معاونت، زرعی مداخل کی نگرانی، اسمگلنگ کی روک تھام اور زرعی پیداوار کی قدر افزا زنجیروں کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
شرکا نے غذائی تحفظ کے لیے غذائیت سے بھرپور فصلوں کی حوصلہ افزائی، خوراک کی غذائیت بہتر بنانے، گھریلو باغبانی کے فروغ، اسکولوں میں خوراک کی فراہمی اور خوراک کے معیار کی نگرانی کے بہتر نظام کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
مصنوعی ذہانت کے لیے قومی حکمت عملی
مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں شرکا نے ایک جامع قومی مصنوعی ذہانت روڈ میپ تیار کرنے پر زور دیا۔
مزید پڑھیے: سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں، امریکی عہدیدار
انہوں نے مضبوط ڈیٹا نظام، ایک دوسرے سے مربوط سرکاری ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، کم لاگت کمپیوٹنگ اور مقامی زبانوں اور مخصوص شعبوں کے لیے مصنوعی ذہانت کی مقامی صلاحیتیں پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بحری شعبے میں صلاحیت بڑھانے کی ضرورت
بحری امور پر گفتگو کے دوران ملک کی جہاز رانی میں محدود کردار پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
شرکا نے قومی اور نجی شعبے کی جہاز رانی کی صلاحیت بڑھانے، میری ٹائم ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد، ادارہ جاتی جواب دہی بہتر بنانے اور قومی جہاز رانی کی پالیسی پر ازسرِنو توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
خارجہ پالیسی میں عملی اقدامات پر زور
خارجہ تعلقات اور تزویراتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ پاکستان کو محض پالیسی سازی تک محدود رہنے کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو عملی، مالی طور پر قابلِ تعین اور قابلِ پیمائش ہوں۔
شرکا نے بدلتے ہوئے عالمی نظام میں بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افغانستان کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
تعلیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی
تعلیم کے شعبے میں مؤثر عمل درآمد، ادارہ جاتی اصلاحات اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
شرکا نے اداروں کے درمیان تعاون اور مشاورت بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ضرورت سے زیادہ مرکزیت اور ایک ادارے کی جانب سے دوسرے ادارے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کی ہدایت کی۔
بدلتے خاندانی نظام کا جائزہ
اجلاس میں پاکستان میں بدلتے ہوئے سماجی حالات کے تناظر میں خاندانی نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے خاندانی تنازعات، نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، ہجرت اور بدلتی ہوئی سماجی توقعات کو اہم مسائل قرار دیتے ہوئے تحقیق، والدین کی تربیت، ازدواجی مشاورت، نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت اور خاندان کو مدنظر رکھنے والی قانون سازی کی ضرورت اجاگر کی۔
پالیسی سازی میں مقامی فکری تناظر پر زور
فورم میں پاکستان کے اپنے فکری اور ثقافتی تناظر سے ہم آہنگ پالیسی سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
شرکا نے نوآبادیاتی اور یورومرکزی فکری سانچوں پر انحصار کم کرنے اور اسلامی فکر سے ہم آہنگ علمی طریقہ ہائے کار اختیار کرنے کی ضرورت اجاگر کی۔
اسلامی بینکاری کے حوالے سے بھی شرکا نے کہا کہ توجہ صرف رسمی طور پر سود سے پاک مالیاتی انتظامات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ وسیع تر سماجی اور معاشی مقاصد کے حصول کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔
پاکستان کا مستقبل ادارہ جاتی صلاحیت سے جڑا ہے
اجلاس کے اختتام پر شرکا نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ابھرتے ہوئے رجحانات کا بروقت ادراک کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور علمی و تحقیقی بصیرت کو قابلِ عمل حل میں تبدیل کرنے سے وابستہ ہے۔
مزید پڑھیں: طاقت کے بدلتے معیار، عالمی دوڑ میں پاکستان کے لیے اصل چیلنجز کیا ہیں؟
اجلاس سے جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور، جج وفاقی شرعی عدالت؛ ڈاکٹر انیس احمد، وائس چانسلر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سفیر (ر) سردار مسعود خان، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ہدایت الرحمٰن، چیئرمین آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن اویس احمد غنی، سابق گورنر خیبر پختونخوا پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل وائس ایڈمرل (ر) افتخار احمد راؤ؛ سید ابو احمد عاکف، سابق وفاقی سیکریٹری ڈاکٹر سید کلیم امام، سابق وفاقی سیکریٹری و آئی جی پولیس سفیر (ر) مسعود خالد؛ پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد، سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر سید طاہر حجازی، سابق رکن پلاننگ کمیشن پروفیسر ڈاکٹر انور الحسن گیلانی، سابق چیئرمین پاکستان کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر سید محمد جنید زیدی، سابق ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی؛ ڈاکٹر مسعود محمود خان، کرٹن یونیورسٹی آسٹریلیا پروفیسر ڈاکٹر صائمہ حمید، سابق وائس چانسلر فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اسد زمان، سابق وائس چانسلر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سفیر (ر) میجر جنرل (ر) ڈاکٹر نول کھوکھر، تجزیہ کار نوفل شاہ رخ، پالیسی تجزیہ کار و چیف ایگزیکٹو آفیسر میوکام اور ڈاکٹر نوید بٹ، سابق سربراہ شعبہ وفاقی حکومت سروسز اسپتال نے خطاب کیا۔














