47 کروڑ کی تنخواہیں، قانون سازی میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے کردار پر سوالیہ نشان

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 76 ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے بعد پارلیمانی قانون سازی میں ان کی عملی شرکت اور کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی آئی کے 76 ارکان قومی اسمبلی نے گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 47 کروڑ 33 لاکھ روپے کی تنخواہیں وصول کیں، تاہم قائمہ کمیٹیوں سے علیحدگی کے باعث قانون سازی کے اہم پارلیمانی مرحلے میں ان کی شرکت محدود رہی۔

قومی اسمبلی کے ارکان کا بنیادی آئینی اور پارلیمانی کردار قانون سازی، عوامی مسائل کی نمائندگی، حکومت کی نگرانی اور پارلیمانی کارروائی میں مؤثر حصہ لینا ہے، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں سے اجتماعی طور پر علیحدگی کے فیصلے نے اس کردار کی انجام دہی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلے پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے اور اب واپسی کے خواہاں، پی ٹی آئی کیا چاہتی ہے؟

قومی اسمبلی سے گزشتہ ایک سال کے دوران 13 پرائیویٹ ممبرز بلز جبکہ 51 سرکاری بلز منظور ہوئے۔ اسی عرصے میں 14 پرائیویٹ ممبرز بلز اور 70 سرکاری بلز قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے، جبکہ 10 بل مشترکہ اجلاس سے بھی منظور ہوئے۔

پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال اگست کے آخر میں جیل سے اپنے پیغام میں پارٹی رہنماؤں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ سمیت تمام پارلیمانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی کے متعدد ارکان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے تھے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے بھی پارٹی ارکان کے کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کے فیصلے کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹرز نے سرکاری گاڑیاں واپس کیوں نہیں کیں؟

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے نتیجے میں پی ٹی آئی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت 5 قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی سے محروم ہوگئی تھی، جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے باعث پارٹی کو 8 کمیٹیوں کی سربراہی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے، جس کے بعد سے پی ٹی آئی ارکان قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کر رہے۔

قومی اسمبلی کے ارکان کی ماہانہ تنخواہ میں اضافے کے بعد اب یہ رقم تقریباً 5 لاکھ 19 ہزار روپے ماہانہ تک پہنچ چکی ہے۔ سال 2025 سے قبل ارکان قومی اسمبلی کو تقریباً 1 لاکھ 68 ہزار سے 1 لاکھ 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔

اس حساب کے مطابق 76 ارکان کو ماہانہ تقریباً 3 کروڑ 94 لاکھ روپے، جبکہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 47 کروڑ 33 لاکھ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کیے گئے۔

مزید پڑھیں: کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ پارٹی لیڈر شپ اور عمران خان کریں گے، شیرعلی ارباب

پارلیمنٹ کے ارکان کی بنیادی ذمہ داریوں میں قانون سازی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قانون سازی کے عمل میں حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اور انفرادی ارکان بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

عام طور پر حکومت کی جانب سے سرکاری بل قومی اسمبلی یا سینیٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ انفرادی ارکان بھی پرائیویٹ ممبرز بل پیش کر سکتے ہیں۔ کسی بل کو متعلقہ ایوان میں پیش کیے جانے کے بعد اس پر بحث، متعلقہ پارلیمانی کمیٹی میں غور اور ایوان سے منظوری کے مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق بل قانون کی شکل اختیار کرتا ہے۔ بعض بلوں، خصوصاً مالیاتی معاملات سے متعلق قانون سازی، کے لیے آئین میں الگ طریقۂ کار بھی موجود ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں حتمی فیصلہ عمران خان کا، چھوڑ کر جانے والے غیر متعلقہ ہیں: شیخ وقاص اکرم

قائمہ کمیٹیاں اس پورے نظام میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ کمیٹیوں میں بلوں کی تفصیلی جانچ پڑتال، متعلقہ وزارتوں اور حکام سے بریفنگ، ارکان کی تجاویز اور ترامیم سمیت مختلف پہلوؤں پر غور کیا جاتا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق قومی اسمبلی سے 13 پرائیویٹ ممبرز بلز اور 51 سرکاری بلز منظور کیے گئے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں 14 پرائیویٹ ممبرز بلز اور 70 سرکاری بلز پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ مشترکہ اجلاس کے ذریعے بھی 10 بل منظور کیے گئے۔

ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیرِ بحث مدت کے دوران پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل جاری رہا، تاہم پی ٹی آئی کے 76 ارکان کی قائمہ کمیٹیوں سے علیحدگی نے ان کی جانب سے اس عمل میں مؤثر اور مسلسل کردار ادا کرنے کے حوالے سے سیاسی و پارلیمانی بحث کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی کے کمیٹیوں سے استعفے، پنجاب کا احتسابی نظام متاثر

پی ٹی آئی کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کا کمیٹیوں سے علیحدگی کا فیصلہ محض قانون سازی سے گریز نہیں بلکہ موجودہ سیاسی حالات کے خلاف احتجاج اور سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

ایک طرف پی ٹی آئی کے ارکان نے سیاسی احتجاج کے طور پر قائمہ کمیٹیوں سے علیحدگی اختیار کی، جبکہ دوسری جانب ان ارکان کو پارلیمانی رکن کی حیثیت سے تنخواہیں اور مراعات ملتی رہیں۔

یہی صورتحال اب اس سوال کو نمایاں کر رہی ہے کہ منتخب ارکان کی پارلیمانی کارکردگی، قانون سازی میں شرکت اور عوامی خزانے سے حاصل ہونے والی تنخواہوں کے درمیان جواب دہی کا مؤثر نظام کیا ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp