خبر موجود، سگنل غائب: گلگت بلتستان کے صحافیوں کی ڈیجیٹل جدوجہد

جمعرات 17 ستمبر 2026
author image

ذاکر بلتستانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹرنیٹ کی سست رفتاری سے نہ صرف ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، فدا حسین نے مایوسی کے عالم میں اپنی بے بسی ظاہر کی۔

رات کے اندھیرے میں گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے دور افتادہ گاؤں سلینگ میں صحافی فدا حسین اپنے موبائل فون کو بلند کر کے سگنل تلاش کر رہے تھے۔ ان کے پاس ایک اہم خبر موجود تھی، تصاویر اور تفصیلات بھی تیار تھیں، مگر خبر اپنے ادارے تک پہنچانے کے لیے انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔

فدا حسین نے خبر شام 7 بجے ارسال کرنے کی کوشش کی، لیکن کمزور انٹرنیٹ کے باعث وہ خبر رات 1 بج کر 15 منٹ پر جا کر ڈلیور ہوئی۔ چند گھنٹوں کی یہ تاخیر صرف وقت کا ضیاع نہیں تھی بلکہ ایک ایسے صحافی کے لیے پیشہ ورانہ دباؤ بھی تھی جس کا کام ہی بروقت معلومات پہنچانا ہے۔

فدا حسین 2012 سے صحافت سے وابستہ ہیں اور 2021 سے زیادہ تر اپنے آبائی ضلع گانچھے سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے انٹرنیٹ اب محض ایک سہولت نہیں بلکہ کام کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے، لیکن کمزور رابطہ ان کے روزمرہ کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

خبر بھیجنے کے لیے سفر

گانچھے جیسے پہاڑی علاقوں میں صحافیوں کو صرف خبر تیار نہیں کرنا پڑتی بلکہ اسے بھیجنے کے لیے سگنل تلاش کرنا بھی ایک الگ مرحلہ بن چکا ہے۔

فدا حسین کے مطابق ان کے گاؤں سلینگ میں اکثر انٹرنیٹ کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، جس کے باعث انہیں ضلعی ہیڈکوارٹر خپلو تک جانا پڑتا ہے۔

فدا حسین کے گاؤں سے خپلو ہیڈ کوارٹر تک سڑک کا سفر آدھا گھنٹے کا ہے اور سکردو شہر کا سفر تقریباً تین گھنٹے کا ہے۔

“کئی مرتبہ پورا دن صرف انٹرنیٹ کے مسئلے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ رات کو فوری ضرورت ہو تو دریا کے کنارے جانا پڑتا ہے، جہاں کتوں اور دیگر وحشی جانوروں کا خوف بھی رہتا ہے۔”

کمزور انٹرنیٹ کی وجہ سے نہ صرف رپورٹس تاخیر کا شکار ہوتی ہیں بلکہ آن لائن کام کے مواقع بھی محدود ہو جاتے ہیں۔

قدرتی آفات میں مواصلاتی مشکلات

گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی آفات، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید موسم کے دوران فوری معلومات کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مواصلاتی مسائل سب سے زیادہ مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

آٹھ سال سے صحافت سے وابستہ فری لانس رپورٹر نثار علی بھی گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ سماجی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، قدرتی آفات اور مقامی معاملات  کور کرتے ہیں۔

نثار علی کے مطابق سست انٹرنیٹ کی وجہ سے خبریں بروقت فائل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ “ویڈیوز اور تصاویر بھیجنے میں کافی وقت لگتا ہے، جس سے ہماری رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے۔”

وہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران انہوں نے سیلابی صورتحال اور فلڈ کے حوالے سے ویڈیو ریکارڈ کی، لیکن انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کئی گھنٹے بعد بھیج سکے۔

“ایسے مواقع پر فوری رپورٹنگ سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے، لیکن مواصلاتی مسائل کی وجہ سے بروقت معلومات پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔”

دس سے بیس کلومیٹر سفر صرف سگنل کے لیے

نثار علی کے مطابق بعض علاقوں میں بہتر انٹرنیٹ سگنل حاصل کرنے کے لیے صحافیوں کو 10 سے 20 کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے۔

“کبھی کبھی کسی پہاڑی مقام تک جانا پڑتا ہے۔ اس دوران خراب سڑکیں، لینڈ سلائیڈنگ، خراب موسم اور رات کے وقت سفر جیسے خطرات موجود ہوتے ہیں۔”

وہ کہتے ہیں کہ چند منٹ کی ویڈیو اپ لوڈ کرنے میں بھی بعض اوقات ایک سے دو گھنٹے لگ جاتے ہیں، جس سے فوری نوعیت کی خبریں متاثر ہوتی ہیں۔

صحافیوں کی ساکھ اور آمدنی پر اثر

صحافیوں کے مطابق انٹرنیٹ کی سست رفتاری صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ان کے پیشہ ورانہ مستقبل سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ نثار علی کے مطابق جب خبریں وقت پر نہ پہنچ سکیں تو اداروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

“بعض مواقع پر خصوصی اسٹوریز یا اسائنمنٹس بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہیں، جس کا مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔”

فدا حسین بھی کہتے ہیں کہ بروقت رپورٹ نہ پہنچانے کی وجہ سے صحافیوں کو مشکلات اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹی وی چینلز میں اسمائنمٹ سے بھی بہت دباؤ آتا ہے،اگر کوئی مدمقابل چینل خبر بریک کردے تو رپورٹرسے ڈانٹ ڈپٹ بھی ہوجاتی ہے

انٹرنیٹ سست کیوں ہوتا ہے؟ آئی ٹی ماہر کی رائے

 محمد رضا آئی ٹی ماہر  کے مطابق گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔

“بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں انٹرنیٹ صرف ایک موبائل ٹاور کا مسئلہ نہیں۔ یہاں بجلی کی طویل بندش، محدود فائبر آپٹک انفراسٹرکچر، سیاحت کے موسم میں اچانک صارفین کا بڑھ جانا اور قدرتی آفات کے دوران فائبر لائنوں کا متاثر ہونا، یہ سب عوامل مل کر انٹرنیٹ کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔”

ان کے مطابق جب بجلی مسلسل کئی گھنٹے بند رہے تو متعدد مقامات پر نیٹ ورک کا بیک اپ سسٹم بھی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے صارفین کو سست رفتار یا بار بار سروس معطل ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دور دراز اضلاع سب سے زیادہ متاثر

صدر پریس کلب سکردو وزیر مظفر کے مطابق گلگت بلتستان میں صحافیوں کو درپیش سب سے بڑا ڈیجیٹل چیلنج سست رفتار اور غیر مستحکم انٹرنیٹ سروس ہے۔

ان کے مطابق بلتستان اور گلگت ڈویژن کے متعدد دور دراز علاقے، جن میں گانچھے، شگر، کھرمنگ، روندو، استور، دیامر اور نگر کے بعض علاقے شامل ہیں، اب بھی معیاری فور جی سہولت سے محروم ہیں۔

“متعدد علاقوں میں موبائل ڈیٹا کی رفتار انتہائی کم ہے جبکہ بعض اوقات مکمل طور پر سروس معطل ہو جاتی ہے، جس کے باعث بروقت خبریں، تصاویر اور ویڈیوز ارسال کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔”

وزیر مظفر کے مطابق کمزور انٹرنیٹ کا اثر صرف صحافیوں تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی بروقت معلومات، سرکاری اعلانات اور ہنگامی صورتحال سے متعلق ضروری معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

خواتین صحافیوں کے لیے اضافی مشکلات

صحافیوں کے مطابق کمزور انٹرنیٹ خواتین صحافیوں کے لیے بھی اضافی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

نثار علی کا کہنا ہے کہ خواتین صحافیوں کو دور دراز علاقوں میں سفر، سکیورٹی اور سماجی پابندیوں جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی کمزوری ان کے کام کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

فدا حسین کے مطابق ضلع گانچھے میں فی الحال کوئی خاتون صحافی کام نہیں کر رہی، تاہم بہتر ڈیجیٹل سہولیات خواتین کے لیے بھی صحافتی مواقع بڑھا سکتی ہیں۔

 بجلی، سیاحوں کا رش اور فائبر بریک بڑی وجوہات

بلتستان میں خدمات فراہم کرنے والے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر کے ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ انٹرنیٹ سروس برقرار رکھنے میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔

ان کے مطابق سکردو میں بعض اوقات 18 سے 19 گھنٹے تک بجلی کی بندش رہتی ہے، جس کی وجہ سے نیٹ ورک کا نظام مسلسل چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔

“ہم تھرمل اور سولر بیک اپ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ صارفین کو سروس فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن طویل بجلی کی بندش کے دوران مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ گرمیوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد سکردو پہنچتی ہے، جس سے ایک ہی وقت میں نیٹ ورک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق موسم گرما میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مقامات پر فائبر آپٹک لائنیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جن کی مرمت میں وقت لگتا ہے، جس سے بار بار انٹرنیٹ بند یا سست ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

ذمہ دار نے بتایا کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے سکردو شہر میں آئندہ چند ماہ کے دوران مزید ٹاورز نصب کیے جا رہے ہیں، جس سے نیٹ ورک کی گنجائش بڑھے گی اور صارفین کو نسبتاً بہتر انٹرنیٹ سہولت میسر آنے کی توقع ہے۔

بہتری کے لیے انفراسٹرکچر کی ضرورت

 صدر وزیر مظفر کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے نئے موبائل ٹاورز کی تنصیب، فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، موجودہ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور دور دراز علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

محکمہ اطلاعات کا جواب موصول نہیں ہوا

اس رپورٹ میں گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی صورتحال اور اس کی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کے حوالے سے محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے محکمہ اطلاعات سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

گلگت بلتستان کے صحافیوں کے لیے انٹرنیٹ اب صرف ایک سہولت نہیں بلکہ صحافت کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ جہاں دنیا میں خبر چند سیکنڈز میں پہنچ جاتی ہے، وہاں پہاڑی علاقوں کے رپورٹر آج بھی ایک سگنل کے انتظار میں گھنٹوں گزارنے پر مجبور ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ رشتہ تڑوانے میں دشمن کون؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

نیند کی کمی پوری کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

اداکارہ کرن خان نے نازیہ حسن کے سابق شوہر سے دوسری شادی کرلی

’قاسم اور سلیمان کی امی کو شادی کی مبارکباد‘، طلال چوہدری کا جمائما گولڈ اسمتھ کے لیے خصوصی پیغام

لاہور ہائیکورٹ نے رضوان کی این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف درخواست مسترد کردی

ویڈیو

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ رشتہ تڑوانے میں دشمن کون؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟