عالمی سطح پر پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی دباؤ کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے قومی اخراجات میں نمایاں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے جامع کفایت شعاری مہم کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی اور تجارتی مراکز رات 9 بجے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے ایندھن پر آئندہ 3 ماہ کے لیے 50 فیصد کی فوری کٹوتی نافذ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 50 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، کفایت شعاری اقدامات پر مکمل عملدرآمد کا عزم
تاہم عوامی سہولت اور انتظامی ضرورت کے پیشِ نظر آپریشنل گاڑیوں، ضروری خدمات کی فراہمی میں مصروف اداروں اور اہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
بجٹ میں کٹوتی اور اشیا کی خریداری پر پابندی
حکومت نے مالی سال 27-2026 کے ’نان ای آر ای‘ بجٹ میں بھی 5 فیصد کی براہِ راست کٹوتی کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری سطح پر ہر قسم کی نئی گاڑیوں اور پائیدار سامان کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ آئی ٹی مصنوعات کی ضروری خریداری کو اس پابندی سے چھوٹ حاصل رہے گی۔
بیرونِ ملک سفر اور سرکاری تقریبات پر محدودیت
نئے اقدامات کے تحت وفاقی وزرا، مشیروں اور سرکاری حکام کے آئندہ 3 ماہ کے لیے تمام غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
ناگزیر غیر ملکی سفر کی صورت میں تمام اعلیٰ عہدیداروں کو صرف اکانومی کلاس میں سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔
سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری فنڈز سے سیمینارز، ورکشاپس، کانفرنسز اور سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر مکمل روک لگا دی گئی ہے۔
ناگزیر تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریمز کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کاروباری اوقات اور شادیوں کے قواعد
توانائی کی بچت کی خاطر ملک بھر میں تمام دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے، جبکہ شادی ہالز اور مارکیز رات 10 بجے لازمی بند کر دیے جائیں گے۔
ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس کے لیے رات 11 بجے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت فراہم کرنے والے شعبے مستثنیٰ رہیں گے۔
علاوہ ازیں، شادی کی تقریبات کے لیے صرف ایک ڈش پیش کرنے کا قانون نافذ کیا گیا ہے۔
ضروری شعبوں کے لیے استثنیٰ اور صوبوں کو تجاویز
عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے فارمیسیز، اسپتالز، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، پیٹرول پمپس، بیکریز، تندور، دودھ کی دکانیں، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم ان پابندیوں سے مکمل طور پر آزاد ہوں گے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ استثنیٰ کی دیگر تمام درخواستیں انفرادی بنیادوں پر زیرِ غور لائی جائیں گی، جبکہ صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی انہی لائنوں پر اپنے ہاں کفایتی اقدامات نافذ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت نے ایندھن بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کردیے
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ ہنگامی اقدامات ایک ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
ملکی معیشت کو درپیش موجودہ چیلنجز کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل پر دباؤ کم کرنے کے لیے ان اقدامات کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے تاکہ قومی خزانے کو مزید بوجھ سے بچایا جا سکے۔












