امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف جامع پابندیاں عائد کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے اور انہیں جلد نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدام جنگی جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عالمی عدالت کے خلاف واشنگٹن کی کارروائی میں مزید شدت کا باعث بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پروسیکیوٹر کریم خان برطرف، تنازع شدت اختیار کر گیا
ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے آئی سی سی کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اسے محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کرچکی ہے۔
امریکی حکام چاہتے ہیں کہ عدالت اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹس واپس لے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم سے متعلق اپنی سابقہ تحقیقات بھی ختم کرے۔
BREAKING: The Trump administration is preparing 'sweeping sanctions' on the International Criminal Court in an effort to 'dismantle the institution after it issued an arrest warrant for Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu', according to the Wall Street Journal. pic.twitter.com/hihcnUHu2b
— The Spectator Index (@spectatorindex) September 21, 2026
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں آئی سی سی کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مہم کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔
واشنگٹن اس سے قبل آئی سی سی کے بعض ججوں اور پروسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کرچکا ہے، تاہم پوری عدالت کو ہدف بنانے سے اب تک گریز کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے خلاف پابندیوں کی تیاری مکمل ہے، تاہم ان کے اعلان کا حتمی وقت ابھی واضح نہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فیصلہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران حتمی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو کیخلاف فیصلہ کیوں دیا؟ امریکا نے عالمی عدالتِ انصاف کے مزید 2 ججز پر پابندیاں عائد کردیں
پوری عدالت اور اس سے تعاون کرنے والے اداروں کو ہدف بنانے والی پابندیاں آئی سی سی کے معمول کے کام کو شدید متاثر کرسکتی ہیں۔
اگر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ادارہ جاتی پابندیاں عائد کی گئیں تو امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے لائسنس کے بغیر عدالت کو رقوم، اشیا یا خدمات فراہم کرنے سے روک دیا جائے گا۔
امریکی مالیاتی نظام تک رسائی پر انحصار کرنے والے بینک اکثر ایسی پابندیوں کی سختی سے تعمیل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آئی سی سی کے لیے امریکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات مزید مشکل ہوسکتے ہیں۔

آئی سی سی کے حکام کے مطابق ایسی پابندیوں سے عدالت کی متعدد اہم سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں، جن میں آئی ٹی خدمات اور انشورنس کا حصول، تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کرنا، روزمرہ مالیاتی لین دین اور امریکی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی شامل ہے۔
ٹرمپ کی آئی سی سی سے مخالفت ان کی پہلی صدارتی مدت سے جاری ہے، نومبر 2024 میں ان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ نمایاں ہوا، جب آئی سی سی نے غزہ جنگ سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا اور پاکستان کی ’اسٹیم‘ تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے شراکت داری
بین الاقوامی فوجداری عدالت 2002 میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
عدالت کے مطابق وہ اس وقت مداخلت کرتی ہے جب کسی ملک کے اپنے ادارے مبینہ سنگین جرائم کی مؤثر تحقیقات یا کارروائی کرنے سے قاصر ہوں یا ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔
امریکا نے کبھی بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی رکنیت اختیار نہیں کی۔














