چین نے مچھلی کی طرح پانی میں تیرنے اور زیرِ آب رکاوٹوں سے خودکار طور پر بچنے کی صلاحیت رکھنے والا جدید روبوٹ متعارف کرا دیا ہے۔
’بی جی-5 گولڈن ڈریگن فش‘ نامی یہ روبوٹ چین میں بایومیمیٹک روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی نمایاں مثال قرار دیا جارہا ہے۔
یہ روبوٹ بیجنگ کے شوگانگ پارک میں منعقد ہونے والے 2026 چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز میں پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سورج ایک سیارہ نگل گیا؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
اسے بویا گونگ ڈاؤ میرین ٹیکنالوجی گروپ نے تیار کیا ہے، جبکہ اس کے ڈیزائن کے لیے سنہری اروانا مچھلی سے تحریک حاصل کی گئی ہے۔
روایتی زیرِ آب ڈرونز کے برعکس بی جی-5 پروپیلر کے ذریعے حرکت نہیں کرتا بلکہ اس میں نصب لچک دار اور کئی جوڑوں پر مشتمل دم لہراتی حرکت پیدا کرکے روبوٹ کو پانی میں آگے بڑھاتی ہے، اس طریقہ کار کا مقصد مچھلی کے قدرتی اندازِ حرکت کی نقل کرنا ہے۔
China has developed a bionic fish robot that swims like a real fish and monitors its underwater surroundings in real time using head mounted sonar. pic.twitter.com/pcAIIB5dRC
— Science girl (@sciencegirl) September 12, 2026
چینی میڈیا کے مطابق روبوٹ کسی پہلے سے مقررہ راستے کا پابند نہیں، اس میں نصب سینسرز اردگرد موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے بعد یہ اپنی سمت خودکار طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔
یہ خصوصیت ایسے زیرِ آب علاقوں میں کارآمد ہوسکتی ہے جہاں حالات مسلسل تبدیل ہوتے رہیں اور انسانی آپریٹر کے لیے روبوٹ کی ہر حرکت کو براہِ راست کنٹرول کرنا ممکن نہ ہو۔
مزید پڑھیں: یادداشت کی واپسی، آکسفورڈ سے 39 ناگا افراد کی باقیات بھارت منتقل کرنے کا اعلان
کمپنی کے مطابق بی جی-5 کی لمبائی 640 ملی میٹر، چوڑائی 204 ملی میٹر اور اونچائی 90 ملی میٹر ہے، جبکہ اس کا وزن تقریباً 3 کلوگرام ہے۔
روبوٹ زیادہ سے زیادہ 5 میٹر گہرائی تک کام کرسکتا ہے اور اس کی رفتار 0.6 میٹر فی سیکنڈ تک ہے۔

کمپنی نے بی جی-5 کا زیادہ جدید ورژن بی جی-5 وی بھی تیار کیا ہے، جس میں راستہ طے کرنے، کام تقسیم کرنے، فارمیشن کنٹرول اور متعدد روبوٹس کے درمیان تعاون جیسی صلاحیتیں شامل ہیں۔
اس سے مستقبل میں کئی چھوٹے زیرِ آب روبوٹس کو ایک گروپ کی صورت میں مختلف کام انجام دینے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہم اسکول سے نکل آئے لیکن اسکول ہم سے نہیں نکلتا، سائنس کیا کہتی ہے؟
اس ٹیکنالوجی نے دفاعی شعبے میں بھی دلچسپی پیدا کی ہے، بویا گونگ ڈاؤ کے مطابق کمپنی نے زیرِ آب بایومیمیٹک نگرانی کے پلیٹ فارم سے متعلق دفاعی منصوبے پر کام کیا ہے اور ایک فوجی یونٹ کے تعاون سے روبو شارک نامی روبوٹ بھی تیار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھلی نما روبوٹس مستقبل میں کم گہرے پانیوں میں نگرانی، تحقیق اور دیگر زیرِ آب مشنز کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں، تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بی جی-5 اس وقت کسی فوجی مشن میں عملی طور پر تعینات ہے۔














