27 ستمبر کو اکیلا بھی رہ گیا تو مارچ کے لیے نکلوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے لیے وہ بالکل اکیلے بھی رہ گئے تو پھر بھی تنہا اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی آمد کے موقع پر وی نیوز کے سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ ہر صورت ہوگا اور وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون، حکومت کس سے بات کرے؟ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے سوال اٹھا دیا

مبینہ گرفتاریوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے اگر وہ بالکل اکیلے بھی رہ گئے تو بھی نکلیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ حکمت عملی کیا ہے اور اسلام آباد پہنچ کر کہاں جائیں گے؟ تو سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کی تیاری مکمل ہے اور کارکنان پرجوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے حکمت عملی 25 ستمبر کو بتائیں گے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پیر کی شام خیبر پختونخوا اسمبلی کے ہنگامی طور پر طلب کیے گئے اجلاس میں شرکت کی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اچانک پیر کی شام کو طلب کیا گیا، جو پہلے 5 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔ اسمبلی اجلاس میں سیاسی صورت حال، لانگ مارچ اور مبینہ گرفتاریوں پر بحث کی گئی۔

’سہیل آفریدی کو عوام کا کوئی خیال نہیں، عمران خان کے نام پر سیاست کررہے ہیں‘

اچانک اجلاس بلا کر سیاسی صورت حال پر بحث کرنے پر اپوزیشن نے سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اپوزیشن رکن مہر سلطانہ نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال انتہائی ابتر ہے اور صوبائی حکومت کی اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں۔

انہوں نے کہا، وزیراعلیٰ کے اکیلے نکلنے کے بیان سے آپ اندازہ لگا لیں کہ لوگ نہیں نکل رہے۔‘

مہر سلطانہ نے کہا کہ کوہاٹ لہولہان ہے۔ صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہییں، لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ’سہیل آفریدی بس عمران خان کے نام پر سیاست کررہے ہیں، دہشتگردی سے متاثرہ عوام کی ان کو کوئی پروا نہیں۔‘

ایک اور اپوزیشن رکن نے کہاکہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کو آخر کیوں نظر انداز کر رہی ہے۔ ’امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہے، اسپتال اور اسکولوں کی حالت قابلِ رحم ہے، لیکن یہ لوگ ہر دوسرے دن احتجاج کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ منصوبے میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت ان کی مرضی نہیں چلنے دے گی۔ جب چاہا سڑکیں بند کر دیں اور دھرنا دے دیا۔

انہوں نے کہاکہ کوہاٹ واقعے کے بعد اسمبلی کا اجلاس بلا کر امن و امان پر بحث ہونی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ سیاسی مقصد اور اسلام آباد مارچ کے لیے اجلاس بلا لیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp