امریکا نے 25 ہزار سے زائد تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیج دیا

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکومت نے 35 ممالک کے ساتھ خفیہ نوعیت کے معاہدوں کے تحت 25 ہزار 447 سے زائد تارکین وطن کو ایسے تیسرے ممالک بھیج دیا جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

اے ایف پی کے مطابق تحقیقاتی ادارے ’فاربڈن اسٹوریز‘ اور عالمی صحافتی اداروں کے اشتراک سے سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ افراد 31 اگست 2026 تک تیسرے ممالک منتقل کیے گئے۔

مزید پڑھیں:ایک سال میں کتنے تارکین وطن بحیرہ روم کے پار اسمگل کیے گئے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد واشنگٹن نے ایسے ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جو ان تارکین وطن کو قبول کرنے پر آمادہ ہوئے جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنا ممکن نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے ان انتظامات کے لیے قریباً 41 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، جن میں وصول کرنے والی حکومتوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کو دی جانے والی رقوم شامل ہیں۔

قریباً 20 ہزار تارکین وطن کو میکسیکو بھیجا گیا جبکہ باقی افراد کو لاطینی امریکا، افریقا اور بحرالکاہل کے 27 دیگر ممالک منتقل کیا گیا۔ مزید 7 ممالک کے ساتھ بھی معاہدے حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

تحقیق کے مطابق معاہدوں کی شرائط مختلف ہیں، جن میں تارکین وطن کی قومیت اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو قبول کرنے سے متعلق شرائط شامل ہیں۔ افریقا کے 54 میں سے 49 ممالک سے تیسرے ممالک کے تارکین وطن کو قبول کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کا ’آفس آف ریمیگریشن‘ زیادہ تر مذاکرات اور ادائیگیوں کا انتظام کر رہا ہے، یہ دفتر مئی 2025 میں قائم کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ انتظامیہ کی نئی کارروائی، تارکین وطن کی ملک بدری کا خدشہ بڑھ گیا

اے ایف پی کے مطابق اندرونی امریکی محکمہ خارجہ کی دستاویزات میں 41 کروڑ ڈالر میں سے 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر معاہدے کرنے والی حکومتوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 17 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد عالمی ادارہ برائے مہاجرت اور 12 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔

رپورٹ میں بعض وکلا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تیسرے ممالک بھیجے جانے والے افراد کو ایسے ممالک میں حراست کا سامنا ہے جہاں ان کے کوئی روابط نہیں اور انہیں قانونی حقوق تک محدود رسائی حاصل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp