برطانیہ میں 13 سال تک کم عمر بچے بھی کیٹامین کے استعمال کے باعث مثانے کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد علاج کے لیے اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ لیورپول کے ایلڈر ہے اسپتال میں قائم خصوصی کلینک کے ڈاکٹروں کے مطابق گزشتہ سال مئی میں کلینک کے قیام سے اب تک 100 سے زائد بچوں کے ریفرل موصول ہوچکے ہیں، جن میں بعض مریضوں نے مثانے کی حفاظتی تہہ کے ٹکڑے پیشاب کے ساتھ خارج ہونے کو ’ جیلی فش پیشاب کرنے ‘ سے تشبیہ دی۔
ماہرین کے مطابق کیٹامین کے مسلسل استعمال سے بار بار اور فوری پیشاب آنے، پیشاب میں خون اور مثانے میں شدید درد جیسی علامات پیدا ہوسکتی ہیں۔ بعض بچے درد کو کم کرنے کے لیے دوبارہ کیٹامین استعمال کرتے ہیں، جس سے ایک خطرناک چکر شروع ہوجاتا ہے اور مثانے کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ طویل عرصے تک نقصان کی صورت میں بے اختیاری، گردوں کی خرابی اور بعض انتہائی سنگین کیسز میں مثانے کی سرجری یا اسے نکالنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بچوں کی صحت پر منفی اثرات کیوں، آپ یہ مسئلہ بآسانی کیسے حل کرسکتے ہیں؟
کلینک کی سربراہ پروفیسر ریچل اِسبا کے مطابق بعض بچوں نے بتایا کہ انہیں پیشاب کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ’ٹوٹے ہوئے شیشے پر پیشاب کر رہے ہوں‘۔ ان کے مطابق کئی بچے ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے کیٹامین استعمال کررہے تھے، جس کا مطلب ہے کہ بعض نے 12 سال یا اس سے بھی کم عمر میں اس کا استعمال شروع کیا۔ کچھ بچے جذباتی صدمے یا دیگر مسائل سے نمٹنے کے لیے کیٹامین استعمال کرنے کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ بعض کو توجہ کی کمی اور ہائپر ایکٹیویٹی کی خرابی یا نگہداشت کے نظام میں رہنے جیسے مسائل بھی درپیش رہے ہیں۔
ایلڈر ہے کے ڈاکٹروں کے مطابق 2023 میں صرف ایک کم عمر مریض کیٹامین سے متعلق مسئلے کے ساتھ سامنے آیا، 2024 میں یہ تعداد 9 ہوگئی اور 2025 میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ پہلے 60 مریضوں میں 43 لڑکیاں تھیں۔
یہ بھی پڑھیے ’جنک فوڈ‘ بچوں کی صحت کس طرح تباہ کر رہا ہے؟
برٹش ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کے مطابق کیٹامین کا باقاعدگی سے استعمال کرنے والے تقریباً ہر 10 میں سے 3 افراد کو مثانے سے متعلق مسائل ہوسکتے ہیں، تاہم دوا کا استعمال ترک کرنے سے بعض کیسز میں نقصان واپس بہتر ہوسکتا ہے۔
برطانیہ میں کیٹامین کو کلاس اے منشیات میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاہم متعلقہ مشاورتی ادارے نے اسے موجودہ کلاس بی حیثیت میں برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے۔














