مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو خطرہ: قوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ٹیک رہنماؤں کی وارننگ

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس ہفتے ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملا جب اوپن اے آئی، اینتھروپک اور ہگنگ فیس کے سربراہان نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے خطرات پر بریفنگ دی۔ ٹیک کمپنیوں نے خبردار کیا کہ کلاس روم سے میدان جنگ تک پہنچنے والی یہ ٹیکنالوجی بغیر کسی مؤثر عالمی ضابطے کے آگے بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ

ٹیورنگ ایوارڈ یافتہ یوشوا بینجیو نے کونسل کو ایسی اے آئی کے خطرات سے خبردار کیا جو انسانی کنٹرول سے آزاد ہو کر کام کرتی ہے اور یہ ایسا خطرہ ہے جسے کوئی اکیلا قابو نہیں کر سکتا اور جو ان سرحدوں کا احترام نہیں کرتا جن کا ہم دفاع کرتے ہیں۔

اسی لہجے میں بحث کا آغاز ہوا جس کے دوران کارپوریٹ نمائندوں اور سفارت کاروں نے زیادہ تر خطرے کی سطح پر اتفاق کیا جبکہ اس سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلاف کیا۔

امریکا نے خود کو فرنٹیئر سپر انٹیلی جنس میں رہنما قرار دیتے ہوئے اس ٹیکنالوجی پر بین الاقوامی کنٹرول کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔

چین کے نمائندے فو کانگ نے اس کے برعکس موقف اختیار کیا، بڑی طاقتوں کو اے آئی کے غلبے کو ’ڈیجیٹل بالادستی‘ کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے خلاف خبردار کیا اور دلیل دی کہ اے آئی کو ’تمام انسانیت کا مشترکہ اثاثہ‘ رہنا چاہیے نہ کہ صرف امیر ممالک کا کھیل۔

لائبیریا کے مستقل مندوب لیوس گرسیڈا براؤن دوم کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل رد عمل کا متحمل نہیں ہو سکتی اور اجتماعی دفاع کو اکٹھا کرنے کے لیے مکمل تباہی کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ کوئی بھی ٹیکنالوجی جو جنگی صلاحیت، خودمختاری اور جغرافیائی سیاسی استحکام پر اثر انداز ہوتی ہے وہ کونسل کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

مزید پڑھیے: کیا اے آئی واقعی انسانوں کا خاتمہ کرسکتی ہے، اچانک دنیا میں خوف کیوں پھیل گیا؟

ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت پر نہ تو حد سے زیادہ ضابطے ہونے چاہئیں اور نہ ہی بہت کم خاص طور پر جب اس کا تعلق سائبر حملوں اور خودکار ہتھیاروں سے ہو۔

اقوام متحدہ کے ڈیجیٹل اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے خصوصی ایلچی امندیپ سنگھ گل نے گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل برائے اے آئی جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔

چین نے الگ سے مزید اوپن سورس تعاون کا مطالبہ کیا اور ٹیک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ عوامی ضابطے اور نگرانی کے تابع ہوں۔

مزید پڑھیں: اے آئی یورپی معیشت کی پیداوار بڑھا سکتی ہے مگر معاشی عدم مساوات کا خطرہ بھی ہے، آئی ایم ایف

اداکار اور اقوام متحدہ کے عالمی وکیل جوزف گورڈن لیوٹ نے اس سیشن میں اپنے پلیٹ فارم کو مضبوط جوابدہی کے اقدامات کا مطالبہ کرنے کے لیے استعمال کیا خاص طور پر بچوں پر اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثر اور توجہ کی مدت اور انسانی تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp