نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے ایک رکنی جوڈیشل کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
کمیشن مبینہ طور پر تفتیش اور طبی معائنے میں سامنے آنے والی خامیوں سمیت کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی ایک ماہ کی مدت 27 ستمبر کو ختم ہوگئی تھی، تاہم کمیشن کے رجسٹرار کے مطابق سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست منظور کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن میں تلخی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے اعتراض پر کارروائی معطل
توسیع کا باضابطہ نوٹیفکیشن سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم ایک رکنی جوڈیشل کمیشن نے باقی رہ جانے والے گواہوں کے بیانات مکمل کرنے اور حتمی رپورٹ پر کام کے لیے کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کر رکھی ہے۔
دورانِ کارروائی کمیشن نے شواہد کو محفوظ کرنے اور ابتدائی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: ڈاکٹر سمیہ اور ڈاکٹر اسامہ کے درمیان لفظی جنگ، جوڈیشل کمیشن کا تحقیقات میں توسیع کا فیصلہ
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا علی کے پہلے پوسٹ مارٹم میں مبینہ تضادات اور میڈیکل بورڈز کی تشکیل سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا۔
کمیشن نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
گزشتہ کارروائی کے دوران کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ علاقے میں 52 کیمرے نصب تھے، تاہم ابتدائی طور پر صرف ایک کیمرے کی فوٹیج حاصل کی گئی۔ کمیشن نے جائے وقوعہ کے ایک حصے میں آگ لگنے کے حالات پر بھی سوالات اٹھائے۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ چیلنج، کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے؟
جسٹس عمر سیال نے ابتدائی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی پر بھی سوالات کرتے ہوئے تفتیش اور طبی معائنے سے متعلق معاملات پر سینئر حکام کو طلب کیا۔
کمیشن نے میر رضا علی کے پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں مبینہ خامیوں کا بھی جائزہ لیا، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بعض نقائص کی نشاندہی کی۔
اس سے قبل عدالتی کارروائی میں بتایا گیا تھا کہ تدفین کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم میں خودکشی کے امکان کو مسترد کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: میر رضا کی موت خودکشی نہیں، قتل کا کیس ہے، تفتیشی افسر
جوڈیشل کمیشن نے میڈیکل بورڈز کی تشکیل اور ان کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور صحت کے محکمے کے سینئر افسران کو، جن میں سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ شہریار میمن شامل ہیں، طلب کیا۔
میر رضا علی کی بہن علیشبہ اور اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ وہ پولیس تفتیش میں خامیوں کے پیش نظر عدالت سے ایک بااختیار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کریں گے تاکہ میر رضا کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کیا جاسکے۔
کیس کا پس منظر
نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش برآمد ہوئی۔
ابتدائی پولیس رپورٹ میں واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے میر رضا کو قتل کیے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج
تدفین کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا، جس میں مبینہ تشدد کے نشانات، متعدد فریکچرز اور عقب سے گولی لگنے کا زخم سامنے آیا، ان شواہد کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔
بعد ازاں نئی پولیس تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا۔
تفتیشی ٹیم نے بھی بعد میں میر رضا علی کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا۔














