صوبہ سندھ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے ایم کیو ایم ارکان سندھ اسمبلی بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں، یہی بات آگے بڑھاتے ہوئے رکن سندھ اسمبلی دانیال صدیقی نے کہاکہ اگر صوبہ سندھ کو پیپلز پارٹی دھرتی ماں سمجھتی تو اس کا خیال بھی رکھتی۔ ان کو صرف یہ یقین دہانی چاہیے کہ ہر سال کا بجٹ بھٹو خاندان اور مراد علی شاہ کو ہی ملے گا تو یہ سندھ کے 100 حصے بھی کردیں گے۔
دانیال صدیقی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم انتظامی یونٹس کی بات کیوں کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریڈ لائن کراچی کا منصوبہ ہے، جو گزشتہ چار سال سے جاری ہے اور اگر پیپلز پارٹی کی حکومت برقرار رہی تو یہ منصوبہ آئندہ چار سال بھی چلتا رہے گا۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
انہوں نے کہاکہ 18 سال سے بلا شرکتِ غیرے پیپلز پارٹی کا وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ اس صوبے میں موجود ہیں، اور صوبے کے 22 ہزار ارب روپے کھا لیے گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی شہری، قومیت یا لسانیت کی بات نہیں کر رہے بلکہ صوبے کے 22 ہزار ارب روپے کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنی رقم خرچ ہونے کے باوجود نہ لاڑکانہ بنا، نہ سکھر، نہ دادو، نہ کندھ کوٹ اور نہ ہی کشمور ترقی کرسکا۔ پیپلز پارٹی نے تو وہاں کام نہیں کرائے جہاں سے یہ منتخب ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن شہروں سے یہ خود منتخب ہوتے رہے، جہاں سے سر شاہنواز بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور اب بلاول بھٹو منتخب ہوئے، وہاں بھی لاڑکانہ ترقی نہ کرسکا۔ ایسے میں کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کراچی کی سڑکیں، گلیاں اور نالے تعمیر کریں گے؟ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام کے لیے قراردادیں منظور ہوچکی ہیں، اسی طرح سندھ میں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی مثال خود پیپلز پارٹی کے سابقہ اقدامات ہیں، جس نے گزشتہ برسوں کے دوران ملیر اور کیماڑی کے اضلاع قائم کیے۔
شرجیل میمن جادوگر آدمی
شرجیل انعام میمن سے متعلق دانیال صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ تو آپ جانتے ہی ہیں، ماشااللہ بڑے جادوگر آدمی ہیں۔ چند سال قبل ان کے پاس سے کچھ برآمد ہوا تھا، جو بعد میں شہد نکلا، پھر یہی شہد کبھی زیتون کے تیل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے ریڈ کارپٹ پر جو کچھ کیا، وہ عوام دیکھ چکے ہیں اور اس سے ان کی ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ جاگیردارانہ ذہنیت کی عکاسی ہے کہ 26 کلومیٹر طویل ریڈ لائن کوریڈور کا منصوبہ گزشتہ چار سال سے جاری ہے، جس کے باعث پورا شہر اذیت کا شکار ہے اور عوام اس منصوبے سے مستفید ہونے کے بجائے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوریڈور کے ایک چھوٹے سے پل کا افتتاح کیا گیا، جبکہ اس پل پر جتنی لاگت نہیں آئی، اس سے زیادہ رقم ریڈ کارپٹ پر خرچ کردی گئی، اور اس کے باوجود اس پر گاڑی بھی چلائی جا رہی ہے۔
دانیال صدیقی نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انہیں یہ بنیادی بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ریڈ کارپٹ گاڑیوں کے چلنے کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے چلنے کے لیے بچھایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جاگیردارانہ ذہنیت اور سوچ کا نتیجہ ہے، جس کے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ تمام لوگ ان کے ہاری اور مزارع ہیں اور وہ ان پر حکومت کرسکتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، یہ کراچی ہے۔
انتظامی یونٹس کے معاملے پر ایم کیو ایم کتنی پرامید؟
دانیال صدیقی نے کہاکہ بڑی بڑی دیواریں بھی گر چکی ہیں، فرعون کی بھی پانچ ہزار سال تک حکومت رہی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بھی ختم کردیا۔ جب فرعون باقی نہ رہا اور نہ ہی قارون کے خزانے باقی رہے تو ہم نے اللہ سے دعا کرنا اور اپنی جدوجہد جاری رکھنا نہیں چھوڑا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس شہر میں رہنے والے ہر فرد اور ہر زبان بولنے والے کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے صوبے کا مسئلہ یہ ہے کہ دیہی سندھ میں رہنے والے سندھی ہمارے بھائی ہیں۔ سندھ کو شہری اور دیہی میں تقسیم ہم نے نہیں کیا بلکہ یہ تقسیم بھٹو صاحب نے کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ دیہی سندھ کے لوگوں نے اب امید چھوڑ دی ہے اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وڈیروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
پیپلز پارٹی کیسے اپنے لوگوں کو نوازتی ہے؟
دانیال صدیقی نے الزام عائد کیاکہ پیپلز پارٹی اپنے خاندان کے افراد کو نوازتی ہے۔ ایک وزیر کا بھائی ٹاؤن ناظم ہے، دوسرے وزیر کا بھائی حیدرآباد کا میئر ہے، جبکہ تیسرے وزیر کا بھائی سکھر کا میئر ہے۔
’کیا سندھ میں باقی لوگ ختم ہوگئے ہیں اور کوئی دوسرا خاندان موجود نہیں؟ ان کے بقول ایک ہی شاہ خاندان کی حکمرانی جاری ہے، جس کا فرد ماضی میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بھی رہ چکا ہے اور اب بھی اسی خاندان کا وزیراعلیٰ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ڈویژن کے صدر نثار کھوڑو ایک انتہائی سینیئر شخصیت ہیں، تاہم معذرت کے ساتھ ان کی بیٹی بھی رکن سندھ اسمبلی ہیں۔
دانیال صدیقی کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح خاندان کے افراد میں عہدے تقسیم کیے جانے ہیں تو یہ ناجائز ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ ان کے مطابق یہ ایک فاشسٹ پارٹی ہے۔
’ان کے پاس وژن نہیں‘
دانیال صدیقی کے مطابق یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے، جو او زیڈ ٹی کے تحت کراچی یا سندھ کے لیے آتا ہے اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر خرچ ہونا ہوتا ہے۔ یہی فنڈز متعلقہ میئر، ٹاؤن ناظم اور پیپلز پارٹی کے وزیر کو ملتے ہیں، لیکن ان کے بقول ان کے پاس کوئی وژن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب مصطفیٰ کمال شہر کے ناظم تھے تو انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو ایک جگہ بٹھایا اور ہر ادارے سے اس کا منصوبہ طلب کیا۔ ایس ایس جی سی اور واٹر بورڈ سمیت تمام محکموں سے کہا گیا کہ وہ اپنے منصوبے پیش کریں۔
’سڑک کی تعمیر سے پہلے یہ طے کیا گیا کہ زیرِ زمین تمام انفراسٹرکچر اور یوٹیلیٹی کا کام مکمل کیا جائے گا۔ اگر کسی لائن کی تبدیلی درکار ہوئی تو اسے تبدیل کیا جائے گا، اسی طرح سیوریج لائن بھی ضرورت کے مطابق بدلی جائے گی۔‘
دانیال صدیقی کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے متعلقہ محکموں کو اعتماد میں لیا گیا، جو کوئی بہت مشکل کام نہیں تھا۔ صرف ایک فون کال یا خط کے ذریعے یہ اقدامات کیے جا سکتے تھے۔ ان کے مطابق اسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں چار سال کے اندر شہر کی شکل بدل گئی۔
انہوں نے کہا کہ اب پیسہ زمین کے نیچے دفن کیا جا رہا ہے اور کام بھی زیرِ زمین ہو رہا ہے، لیکن اس کا شہر کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔
’سندھ کے نام سے بہت سے صوبے‘
دانیال صدیقی نے کہاکہ ایوان میں ایک سینیئر سیاست دان نے کہا تھا کہ کیلیفورنیا ایک بہت بڑی ریاست ہے۔ اس پر انہوں نے ایوان میں جواب دیا کہ کیلیفورنیا کے بھی کئی حصے ہیں، جن میں جنوبی کیلیفورنیا، شمالی کیلیفورنیا، وسطی کیلیفورنیا اور ٹمپا وغیرہ شامل ہیں۔
دانیال صدیقی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سیاست دان سے سوال کیا کہ اگر کیلیفورنیا کے اتنے سارے نام اور حصے ہو سکتے ہیں تو کیا سندھ کے نہیں ہو سکتے؟
’دھرتی ماں تو پاکستان ہے‘
دانیال صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان ہی ہماری دھرتی ماں ہے۔ ان کے مطابق سندھی، بلوچ اور دیگر قومیتوں کے افراد سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ اگر ہم ذیلی قوم پرستی کو اس حد تک آگے لے جائیں گے تو دوسری قومیں بھی اسی طرز پر مطالبات کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ لسانیت کی بنیاد پر کسی صوبے کے قیام کے سخت خلاف ہیں، تاہم انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کے بقول خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے قرارداد منظور ہو چکی ہے اور وہاں نئے انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں، جبکہ پنجاب میں بھی پہلے ہی قرارداد منظور کی جا چکی ہے۔
دانیال صدیقی کے مطابق بلوچستان کو بھی اس معاملے پر کوئی اعتراض نہیں اور وہاں سے بھی اس حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
دانیال صدیقی کا کہنا تھا کہ پیر صاحب پگارا نے بھی اس معاملے کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ’پیر صاحب پگارا بھی اسی دھرتی کے بیٹے اور یہاں کے رہائشی ہیں، جبکہ ان کی سیاسی اور مذہبی دونوں طرح کی وابستگیاں اور مفادات ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک مقصد کی حمایت کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پیر صاحب پگارا کا تعلق اندرونِ سندھ سے نہیں؟ دانیال صدیقی کے بقول یہ ایک بالکل عام سی بات ہے، جسے بعض لوگ غیر ضروری طور پر دوسرا رنگ دے رہے ہیں۔
’یہ سارا معاملہ پیسے کا ہے‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک سادہ سی بات ہے۔ اگر آج سندھ میں تین، چار، پانچ یا چھ انتظامی یونٹس بنا دیے جائیں اور پیپلز پارٹی سے کہا جائے کہ ہر سال کا بجٹ بھٹو خاندان اور مراد علی شاہ کے اکاؤنٹس میں جائے گا، تو وہ اس کے 100 حصے کرنے پر بھی تیار ہو جائے گی۔
ان کے مطابق معاملہ سندھ کا نہیں بلکہ پیسے کا ہے۔ اگر انہیں واقعی سندھ سے محبت ہوتی اور وہ اسے اپنی دھرتی ماں سمجھتے تو اس کا خیال رکھتے۔ سندھ کی سڑکیں اس طرح نہ کھودی جاتیں اور نہ ہی اس کے سطحی پانی کو اس طرح آلودہ کیا جاتا۔
دانیال صدیقی کے مطابق انہیں صرف اس بات سے دلچسپی ہے کہ شہر اور صوبے میں اسکوٹیاں تقسیم کی جائیں۔ ایک ہزار اسکوٹیاں دے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کو بااختیار بنا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی مجموعی آبادی کے صرف 0.002 فیصد افراد کو اسکوٹیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ پل کا افتتاح کرنے کے موقع پر ریڈ کارپٹ پر گاڑی چلا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنا دیا ہے۔













