بھارتی سپریم کورٹ نے معروف اداکار راجپال یادو کو 2012 میں ریلیز ہونے والی فلم اتا پتا لاپتا سے متعلق چیک باؤنس کیس میں 13 اکتوبر تک 2 کروڑ بھارتی روپے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ جب تک راجپال یادو مکمل رقم جمع نہیں کراتے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ان کی اپیل پر سماعت نہیں کی جائے گی۔ سماعت کے دوران عدالت نے اداکار کے سابقہ طرزِ عمل پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان کی سزا میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیل میں موت کو قریب سے دیکھا، اداکار راجپال یادیو جذباتی ہوگئے
راجپال یادو سماعت کے دوران ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے اور 1 کروڑ 15 لاکھ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ بھی جمع کرانے کے لیے ساتھ لائے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ اداکار نے رجسٹری کے ذریعے رقم ادا کرنے کی کوشش کی تھی تاہم آر ٹی جی ایس کے ذریعے ادائیگی کی اجازت نہ ہونے کے باعث ڈیمانڈ ڈرافٹ لایا گیا۔
باقی 85 لاکھ روپے راجپال یادو کی جائیداد خریدنے والے شخص کی جانب سے 13 اکتوبر تک ادا کیے جائیں گے۔ وکیل کے مطابق جائیداد کی فروخت مکمل ہوتے ہی باقی رقم عدالت میں جمع کرا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کروڑوں روپے کمانے والے راجپال یادیو کنگال کیسے ہوگئے؟
سماعت کے دوران راجپال یادو نے اتا پتا لاپتا کی وجہ سے ہونے والے مالی نقصان کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ فلم کے باعث انہیں تقریباً 200 سے 250 کروڑ روپے کا نقصان ہوا جبکہ پروڈیوسرز کو بھی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے فلم کے عنوان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی فلم کی طرح آپ کے پیسے بھی اتا پتا لاپتا ہیں، غائب ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں قید کی سزا، کروڑوں روپے ادا کرنے کا حکم
چیف جسٹس نے راجپال یادیو کو مشورہ دیا کہ اچھی فلم بنائیں اور لوگوں کو محظوظ کریں۔ چیف جسٹس نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے وکلا بھی اچھے اداکار ہیں اور انہیں اپنی فلموں میں کاسٹ کیا جا سکتا ہے۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجپال یادو نے اس مؤقف کی تردید کی کہ فلم بنانے کے لیے مذکورہ رقم قرض کے طور پر حاصل کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرے پاس اب پیسے بھی نہیں‘، جیل جانے سے پہلے اداکار راجپال یادو جذباتی ہوگئے
اداکار کا کہنا تھا کہ فلمیں بنانے کے لیے قرض نہیں لیا جاتا بلکہ یہ رقم کسی پیکیج ڈیل یا سرمایہ کاری کا حصہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود متعدد فلموں پر کام کر رہے ہیں اس لیے ایک فلم بنانے کے لیے قرض لینے کی ضرورت نہیں تھی۔
راجپال یادو نے عدالتی فیصلے کا احترام کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ انہیں اپنے ملک، سپریم کورٹ اور عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور عدالت کی جانب سے جو بھی فیصلہ دیا جائے گا وہ اسے قبول کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: راجپال یادو کی مالی مدد کے لیے فلمی و سیاسی شخصیات متحرک، کس نے کتنے پیسے جمع کیے؟
راجپال یادو کے خلاف یہ معاملہ 2010 سے چلا آ رہا ہے، جب انہیں دہلی کی کمپنی مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے فلم اتا پتا لاپتا کے لیے تقریباً 5 کروڑ روپے فراہم کیے گئے تھے۔ راجپال یادو نے فلم کی ہدایت کاری بھی کی تھی۔
کمپنی کا الزام ہے کہ 2013 میں رقم کی واپسی کے لیے راجپال یادو نے 1 کروڑ 5 لاکھ روپے مالیت کے 7 چیک جاری کیے تاہم تمام چیک باؤنس ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘لنگور کو مل گئی حور،’ راج پال یادو کی اپنی اہلیہ رادھا یادو کے بارے میں کھلی گفتگو
اپریل 2018 میں مجسٹریٹ کی عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا راجپال یادو کو کیس میں قصوروار قرار دیا جبکہ 2019 میں سیشنز عدالت نے بھی یہ فیصلہ برقرار رکھا۔
10 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھتے ہوئے راجپال یادو کو 3 ماہ قید کی سزا سنائی جس کے خلاف اداکار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ راجپال یادو کے وکیل اس سے قبل عدالت کو بتا چکے ہیں کہ شکایت کنندہ کو تقریباً 4 کروڑ 25 لاکھ روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’دل کرتا تھا خود کو زور سے ماروں‘، اکشے کمار نے کیریئر کا سب سے بڑا پچھتاوا بتادیا
15 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس سوریا کانت نے راجپال یادو کو 2 کروڑ روپے جمع کرانے کے لیے مزید دو ہفتوں کی آخری مہلت دی تھی اور انہیں اپنا پاسپورٹ بھی سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے اداکار کے سابقہ طرزِ عمل پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی کے رویے کو دیکھتے ہوئے ان پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ راجپال یادو بالی ووڈ میں ڈرامہ اور اداکاری کرنے کے ماہر ہیں اور عدالت میں بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔














