بابر اعظم، شاہین آفریدی سمیت دیگر سینیئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالنا احمقانہ فیصلہ ہے، صادق محمد

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد نے سری لنکا کے خلاف ٹی 20 سیریز کے لیے سینیئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے کے فیصلے کو مضحکہ خیز اور احمقانہ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شکست پر پوری ٹیم بدلنے کے بجائے سلیکٹرز اور کوچز کو بلے بازوں کی تکنیک اور شاٹ سلیکشن پر توجہ دینی چاہیے۔

میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد نے کہا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پچھلی سیریز یا ٹورنامنٹ ہارنے پر ’بابر اعظم‘ ،’شاہین آفریدی‘ اور ’سلمان علی آغا‘ جیسے تمام سینیئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکال دیا جائے۔

انہوں نے اس فیصلے کو ناتجربہ کار حکام کی ناقص سوچ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب عہدیدار غیر پختہ ہوں تو وہ طویل مدتی نتائج سوچے سمجھے بغیر ایسے ہی فیصلے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاک انگلینڈ ٹیسٹ سیریز: شعیب اختر کی قومی کرکٹ ٹیم کو وارننگ

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی دیگر ٹیموں کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اس کے ردعمل میں اپنے کپتان تبدیل نہیں کرتیں اور نہ ہی سینیئرز کو نکالتی ہیں۔ عموماً 1 یا 2 تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ ٹیم کو سنبھلنے اور کارکردگی دکھانے کا موقع مل سکے۔

بابر اعظم کی شمولیت اور بیٹنگ کے مسائل

صادق محمد نے زور دیا کہ بابر اعظم کو ٹی 20 اسکواڈ کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایسے تکنیکی طور پر مضبوط بلے بازوں کی ضرورت ہے جو اننگز بنانے اور مشکل ہدف دینے یا اس کا تعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

سابق اوپنر نے کہا کہ سلیکٹرز کو ایسی بیٹنگ لائن منتخب کرنی چاہیے جس میں بہترین تکنیک، صبر اور عمدہ شاٹ سلیکشن موجود ہو۔ بلے باز ہی ٹیم کو ہدف کے قریب لے جاتے ہیں اور جیت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کریز پر موجود سیٹ بلے باز کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے آنے والے بالخصوص ناتجربہ کار کھلاڑیوں کی رہنمائی کرے، انہیں اسٹرائیک روٹیٹ کرنے اور صورتحال کے مطابق کھیلنے کا کہے تاکہ غیر ضروری خطرات سے بچا جا سکے۔

ٹی 20 کرکٹ میں ہدف کے تعاقب کی حکمت عملی

قومی ٹیم کے سب سے بڑے مسئلے یعنی بیٹنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کوچز اور سلیکٹرز پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر ٹاپ 5 بیٹرز کے ساتھ واضح رابطہ رکھیں۔

ان کی ذہن سازی، نظم و ضبط، شاٹ سلیکشن اور میچ جیتنے کے شعور پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ٹی 20 فارمیٹ میں ہدف کے تعاقب کی حکمت عملی بتاتے ہوئے صادق محمد نے کہا کہ مقصد مطلوبہ رن ریٹ کے قریب رہنا ہونا چاہیے۔ بہترین صورتحال وہ ہے جب آخری 3 اوورز میں آپ کے 2 مستند بلے باز کریز پر موجود ہوں۔

مزید پڑھیں:ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: بابر اعظم کا قومی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

 انہیں صرف چھکوں کی تلاش میں رہنے کے بجائے سنگلز اور ڈبلز کے ذریعے اسٹرائیک روٹیٹ کرتے ہوئے 8 سے 10 رنز فی اوور بنانے اور باؤنڈریز تلاش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

جدید کرکٹ اور بلے بازوں کی لاپرواہی

جدید کرکٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل بلے باز اور ٹیل اینڈرز کریز پر ٹکنے اور آخری گیند تک میچ کو حقیقت پسندانہ انداز میں لے جانے کے بجائے ایک اوور میں 18 رنز بنانے کے چکر میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپرواہی سے کھیلے گئے شاٹس کی وجہ سے اکثر ٹاپ آرڈر بلے باز میچ ہارنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہیں پر اچھی کوچنگ اور درست رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے کہ کس طرح سمجھداری سے ہدف کا تعاقب کر کے جیت کے امکانات روشن کیے جائیں۔

نوجوان پیسر رضا اللہ کی شمولیت کی تعریف

سینیئر کھلاڑیوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ صادق محمد نے نوجوان فاسٹ بولر ’رضا اللہ‘ کو دونوں فارمیٹس میں شامل کرنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’رضا اللہ‘ کو اسکواڈ میں رکھنا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ جو کھلاڑی فارم میں ہو اسے کم از کم 2 یا 3 سیریز میں مسلسل موقع ملنا چاہیے۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں اصلاحات کی تجویز

پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پریذیڈنٹ ٹرافی‘  اور ڈومیسٹک ون ڈے مقابلوں کی تنظیم نو اور شیڈولنگ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

ان کے مطابق اگر بورڈ ان 2 فارمیٹس میں ایک مضبوط اور مسابقتی ڈومیسٹک اسٹرکچر قائم کر لے، تو ٹی 20 ٹیم کو بھی خود بخود تکنیکی اور ذہنی طور پر مضبوط کھلاڑیوں کا ایک بڑا پول مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان بمقابلہ سری لنکا ٹی 20 سیریز: ٹکٹس کی فروخت کا آغاز، راولپنڈی میں کرکٹ شائقین کے لیے رعایت

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس نظام کو چلانے کے لیے درست ذہنیت کے حامل مناسب افراد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں میں انتخاب کے لیے اعلیٰ کھلاڑیوں پر ہر ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں کم از کم 5 میچ کھیلنا لازمی قرار دیا جائے۔

اس سے بہترین کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ سے جڑے رہیں گے اور کرکٹ کی بنیاد مضبوط ہوگی۔

پاک سری لنکا ٹی 20 سیریز

واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 3 میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کا آغاز جمعہ سے راولپنڈی کے پنڈی اسٹیڈیم میں ہو رہا ہے، جس کے لیے قومی اسکواڈ میں سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دے کر کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp