حیدرآباد کے علاقے پریٹ آباد میں پارکنگ کے معمولی تنازع پر سندھ پولیس ہائی وے انسپکٹر نے فائرنگ کر کے 3 افراد کو زخمی کر دیا، جس پر ایس ایس پی حیدرآباد نے ملزم افسر اور اس کے 2 گن مینوں کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سندھ پولیس ہائی وے پٹرولنگ پر مامور (ایس پی ایچ پی) کے انسپکٹر کو پریٹ آباد، حیدرآباد میں تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کر کے 3 افراد کو زخمی کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا حکم
حیدرآباد کے ایس ایس پی ’شاہزیب چاچڑ‘ نے تصدیق کی ہے کہ ضلع جامشورو میں تعینات ملزم انسپکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں نامزد اس کے 2 گن مینوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
دہشتگردی اور اقدامِ قتل کی سنگین دفعات
واقعے کا مقدمہ تھانہ پنیاری میں مجروح ارشد کے بھائی ’محمد وقاص‘ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 324 (اقدامِ قتل)، 354 (خاتون پر حملہ یا زبردستی) اور 504 (اشتعال انگیزی) کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعات 6 اور 7 شامل کی گئی ہیں۔
مدعی نے انسپکٹر پر علاقے میں فائرنگ کر کے خوف و ہراس اور دہشت پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
تنازع اور جھگڑا کیا ہے
ایف آئی آر کے متن کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب انسپکٹر نے مدعی کے بھتیجے ’نوشاد ارشد‘ کی پارک کی گئی موٹر سائیکل کو ٹھوکر مار کر گرا دیا، جس پر گھر کے افراد باہر آ گئے۔
مدعی کا کہنا ہے کہ ان کے گھر کے سامنے رہائش پذیر ملزم انسپکٹر ماضی میں بھی گاڑی پارک کرنے کے معاملے پر بلاجواز بدتمیزی اور تکرار کرتا رہا ہے۔
بدھ کی صبح ہونے والی تکرار کے دوران جب انسپکٹر سے موٹر سائیکل کو ٹھوکر مارنے کی وجہ پوچھی گئی تو وہ شدید اشتعال میں آ گیا، نازیبا الفاظ استعمال کیے اور مدعی کی بھابھی کے پیٹ میں شدید ضرب لگائی جس سے وہ زمین پر گر گئیں۔
موبائل ویڈیو بنانے پر اشتعال اور سرکاری پسٹل سے فائرنگ
اس موقع پر نوشاد کے والد ’ارشد فخر الدین‘ گھر سے باہر آئے اور معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کی۔ ارشد کے بیٹے ’شاہزیب‘ نے بتایا کہ ان کے والد نے انسپکٹر کے اس غیر قانونی رویے کی اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنانا شروع کر دی، جس پر ایس پی ایچ پی کا اہلکار شدید طیش میں آ گیا۔
مزید پڑھیں:بنگلادیش: محمد علی حسین فقیری نئے انسپکٹر جنرل آف پولیس مقرر
انسپکٹر نے فوراً اپنی سرکاری گاڑی سے پسٹل نکالی۔ اگرچہ انسپکٹر کے 2 گن مینوں نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی، لیکن پولیس اہلکار نے ارشد پر براہ راست فائرنگ کر کے ان کے پیٹ میں گولی مار دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں ارشد اور وہاں سے گزرنے والے 2 راہگیر گولیوں کا نشانہ بن کر زمین پر گر پڑے۔
زخمیوں کی طبی صورتحال اور وینٹی لیٹر پر منتقل
لیاقت یونیورسٹی اسپتال (ایل یو ایچ) کے پولیس سرجن ’ڈاکٹر وسیم خان‘ کے مطابق ارشد کو تشویشناک حالت میں اسپتال کے سرجیکل وارڈ لایا گیا جہاں آپریشن کے بعد انہیں سرجیکل آئی سی یو منتقل کر دیا گیا ہے۔
آئی سی یو کے سربراہ ’ڈاکٹر کاشف میمن‘ نے بتایا کہ سرجری کے دوران متاثرہ شخص کی انتڑیوں اور خوراک کی نالی کی مرمت کی گئی ہے اور انہیں 24 گھنٹے کی نگرانی کے لیے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت اب بھی انتہائی تشویشناک ہے۔
مزید پڑھیں:راولپنڈی پولیس کی انسپکٹر ارم خانم کی شاندار فتح، بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا
ایل یو ایچ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ’ڈاکٹر ارشاد کاظمی‘ کے مطابق فائرنگ سے زخمی ہونے والے راہگیروں میں ’کامران بابو‘ کے پٹھوں میں گولی لگی جو ریڑھ کی ہڈی سے بال بال بچی، انہیں نیورولوجی وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے راہگیر 45 سالہ ’آفاق اسحاق‘ معمولی زخمی ہونے پر کیژولٹی وارڈ میں زیرِ علاج ہیں۔
زخمی آفاق نے بتایا کہ وہ کام کے لیے نکل رہے تھے کہ اچانک ایک گولی ان کے پاؤں میں لگی، تاہم خوش قسمتی سے وہ بڑے نقصان سے محفوظ رہے۔













