وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری پاکستان تحریک انصاف کا جاری لانگ مارچ مزید طویل ہونے کا امکان ہے۔
پارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، احتجاجی جلوس پشاور میں چارسدہ روڈ پر قیام کرے گا، جس کے بعد وزیراعلیٰ شبقدر اور چارسدہ سے ہوتا ہوا مردان اور پھر صوابی پہنچے گا۔
پارٹی کے اہم رہنماؤں کے مطابق، بدھ کے روز ابتدائی طور پر احتجاجی قافلے کو چارسدہ سے مردان لے جانے کے بجائے قبائلی ضلع مہمند کا رخ کرنے کی تجویز دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ختم، رابطے بحال، کیا لانگ مارچ مزید ’لانگ‘ ہونے والا ہے؟
ابتدائی مجوزہ منصوبے کے مطابق، وزیراعلیٰ شبقدر میں قیام کے بعد مہمند اور پھر باجوڑ جائیں گے، باجوڑ میں مزید ایک دن گزارنے کے بعد احتجاجی جلوس ثمرباغ کے راستے لوئر دیر کے ضلعی ہیڈکوارٹر تیمرگرہ پہنچے گا۔
دوسری جانب، قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ساجد خان مہمند نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا 9 اکتوبر کو ان کے حجرے میں قیام کریں گے اور 10 اکتوبر کو میاں منڈی، مہمند میں شرکا سے خطاب بھی کریں گے۔
پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے وی نیوز کو بتایا کہ سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری احتجاجی لانگ مارچ اب مزید طویل کیا جارہا ہے اور اس کے روٹ میں مختلف اضلاع کو شامل کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
لانگ مارچ کو مزید طویل کیوں کیا جا رہا ہے؟
خیبرپختونخوا کابینہ میں شامل ایک اہم وزیر نے بتایا کہ بدھ کے روز پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وفاقی حکومت کے ایک اہم وزیر سے رابطوں کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات میں ایک خصوصی پیغام پہنچایا ہے۔
مذکورہ وزیر کے مطابق، اس کے ملاقات کے بعد اسد قیصر نے اسپیکر ہاؤس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، مینا خان اور ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل سے بھی ملاقات کی، ان رابطوں اور مشاورت کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کو فوری طور پر صوابی پہنچانے کے بجائے مزید اضلاع سے گزارا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ غریب عوام کی پریشانیاں مزید بڑھادے گا، خیبر کے نوجوانوں کا تبصرہ
صوبائی وزیر نے بتایا کہ اسد قیصر جس وفاقی وزیر کا پیغام لے کر پشاور آئے تھے، وہ وفاقی سطح پر مذاکراتی عمل میں بھی شریک رہے ہیں، ان کے بقول، توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی وفاقی حکومت کے اہم وزرا سے رابطے میں ہیں، اس کے علاوہ، پارٹی احتجاجی قافلے کو صوابی پہنچانے سے قبل آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائے گی۔
لانگ مارچ کا ممکنہ روٹ کیا ہوگا؟
پی ٹی آئی کے منصوبے کے مطابق، قبائلی ضلع خیبر سے پشاور پہنچنے کے بعد احتجاجی قافلہ شبقدر اور پھر چارسدہ جائے گا، اس کے بعد مردان سے ہوتا ہوا 11 اکتوبر کو صوابی پہنچے گا۔
بعض پارٹی رہنماؤں کے مطابق، کئی اہم رہنماؤں کی خواہش تھی کہ اس احتجاجی لانگ مارچ کو مالاکنڈ ڈویژن بھی لے جایا جائے اور شاید ضرورت پڑنے پر اس کے روٹ میں مزید تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کی قیادت کو لانگ مارچ کیوں ’موخر‘ کرنا پڑا؟
پی ٹی آئی کے بعض اہم رہنماؤں نے وی نیوز سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ انہیں خود بھی آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں، اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاجی قافلے کی منزل اور اگلے مرحلے کی حکمت عملی پر پارٹی کے اندر ابھی مشاورت جاری ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے لانگ مارچ پر طنزیہ تبصرے
لانگ مارچ کے مسلسل طویل ہونے پر پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے پارٹی کے واٹس ایپ گروپس میں طنزیہ تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ طور پر بننے والے فارورڈ بلاک کے ایک رکن نے تبصرہ کیا کہ لانگ مارچ اب ’اسٹریٹ موومنٹ‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ایک دوسرے رہنما نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر لانگ مارچ باجوڑ جا رہا ہے تو ایک دو دن چترال میں گزارنے کے بعد اسے گلگت بھی لے جایا جا سکتا ہے، ان کے بقول، اگر اسے مزید طویل کرنا مقصود ہو تو افغانستان کے علاقے واخان کی پٹی سے بھی گزارا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر اب بھی موجود، پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنااللہ
ایک رکن صوبائی اسمبلی نے لانگ مارچ پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے مہاتما گاندھی کے 1930 کے نمک مارچ کا حوالہ دیا، انہوں نے لکھا کہ گاندھی نے نمک کے قانون کے خلاف احمد آباد سے 26 روزہ مارچ کیا تھا۔
اگر سہیل آفریدی کا لانگ مارچ بھی 26 روز تک جاری رہا تو وزیراعلیٰ چیئرمین ماؤ کی قیادت میں چینی کمیونسٹ فوج کے لانگ مارچ کی مثال بھی دے سکیں گے، جس میں چینی کمیونسٹ فوج نے ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط تاریخی پسپائی اور نقل و حرکت اختیار کی تھی۔













