خیبرپختونخوا کے بعض شہریوں نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’یومِ نجات‘ قرار دیا ہے اور خوشی کے اظہار کے لیے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ شہریوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر گزشتہ 13 سے 14 سال کے دوران کرپشن، ترقیاتی کاموں میں ناکامی اور دھرنوں کی سیاست کو ترجیح دینے کے الزامات عائد کیے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ پر عوام نے وفاقی حکومت کے اس عمل کی تائید کی ہے
جشن کا ماحول ہے اس وقت کے پی کے میں لوگ مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں pic.twitter.com/ANAT6DmaH4— Umar Rao🇵🇰⚖️ (@UmarRao333) October 11, 2026
شہریوں کا کہنا تھا کہ صوبے میں طویل عرصے سے ایسی حکومت رہی جس کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں تھے۔ ان کے بقول، خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے لیے مختص فنڈز سے خاطرخواہ ترقیاتی کام نہیں ہوئے اور سیاسی سرگرمیوں، جلسوں اور دھرنوں پر توجہ دینے کے باعث صوبہ ترقی میں پیچھے رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ، سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کہاں ہے؟
انہوں نے پی ٹی آئی پر قومی اداروں کے خلاف بیانیہ اپنانے اور ملک میں سیاسی انتشار کو فروغ دینے کے الزامات بھی عائد کیے۔ شہریوں نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت سے نجات کے فیصلے پر خوش ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نئے انتظامی سیٹ اپ میں دہشتگردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔
شہریوں نے نئے نظام سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری لانے کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو جلسوں، جلوسوں اور ہڑتالوں کی سیاست کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی پر توجہ دینے والی حکومت کی ضرورت ہے۔














