پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی لائسنسنگ کی جامع نظام قائم ہوگیا ہے، کہ ورچوئل ایسٹس ایکٹ کے نفاذ کے بعد صرف 5 ماہ میں لائسنسنگ ریگولیشنز نافذ کردی گئی ہیں۔
پیر کے روز وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات کے ریگولیٹری فریم ورک میں پیش رفت، مستقبل کے لائحہ عمل، ٹوکنائزیشن، ڈیجیٹل فنانس اور عالمی مالیاتی نظام کی بدلتی سمت پر بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اب مستقبل کے مالیاتی نظام کے قواعد تشکیل دینے میں بھی کردار ادا کررہا ہے، بلال بن ثاقب
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ورچوئل ایسٹس ایکٹ کے نفاذ کے بعد صرف 5 ماہ میں لائسنسنگ ریگولیشنز نافذ کر دی گئیں، جبکہ پاکستان میں ورچوئل اثاثوں سے متعلق 10 سرگرمیوں کے لیے لائسنسنگ کا جامع فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔
بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے اہم اہداف بجٹ کے 8 فیصد سے بھی کم خرچ میں حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کو ریگولیٹری نظام کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق پاکستان میں ٹوکنائزڈ مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل پر کام جاری ہے، جس کے تحت خودمختار قرضوں، یورو بانڈز اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو ٹوکنائز کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ سرحد پار ادائیگیوں کے جدید نظام اور ڈیجیٹل فنانس کے آزمائشی منصوبوں پر بھی پیشرفت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل ایسٹس مارکیٹ کو معیشت کا اہم ستون بنایا جارہا ہے، بلال بن ثاقب
بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل فنانس کے مباحثے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان نے بلاک چین اور ٹوکنائزڈ فنانس کے مستقبل سے متعلق عالمی مکالمے میں بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی نظام کی اگلی نسل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہورہا ہے۔














