خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی اپیکس کمیٹی کے بڑے فیصلے، اجلاس کا اعلامیہ جاری

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کی صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس 8 ماہ بعد گورنر فیصل کریم کنڈی کے زیر صدارت گورنر ہاوس پشاور میں ہوا۔

اپیکس کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھنے اور پولیس و کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جدید وسائل فراہم کرنے سمیت اہم فیصلے کیے گئے۔

اپیکس کمیٹی کا آخری اجلاس معتوب وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت 4 فروری 2026 کو ہوا تھا۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، ایڈوائزری کونسل کے ارکان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں واقعے پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس: امن جرگے کے مطالبات مان لیے گئے

اعلامیے کے مطابق اجلاس کے آغاز میں دہشتگردی کے خلاف جنگ اور امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

فورم نے متعلقہ اداروں کو دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مربوط، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

اجلاس میں فورم نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی عملی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں اداروں کو جدید آلات، ضروری گاڑیاں، بکتر بند گاڑیاں، مؤثر اسلحہ اور مطلوبہ نفری سمیت تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشتگردی کا خاتمہ اور صوبے میں امن و امان کا قیام تمام ریاستی اداروں کا مشترکہ مقصد اور اولین ترجیح ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

تعلیم، صحت اور عوامی مسائل پر توجہ دینے کا فیصلہ

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

فورم نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، صحت اور شہریوں کے معیار زندگی سے متعلق مسائل کا حل عوامی تحفظ اور پائیدار امن کے قیام سے براہ راست منسلک ہے، تاہم ماضی میں ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس، اعلیٰ عسکری و سول قیادت وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئی

اجلاس میں صوبے کے پسماندہ اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، سماجی و اقتصادی ترقی کے فروغ اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اپیکس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں عوامی تجاویز، ضروریات اور مقامی ترجیحات کو پالیسی سازی اور عملی اقدامات کا حصہ بنایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp