میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بیٹیوں کے خواب پورے کرنا والدین کی اولین خواہش ہوتی ہے کوئی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ایسا نہیں کر پاتے لیکن کچھ ایسے بھی بدقسمت ہیں جو اپنی لخت جگر کی کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں لیکن مقصد ملنا تو درکنار اپنی لاڈلی کو ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ  اسلام آباد کے محمد اعجاز کے ساتھ ہوا جن کی گولڈ میڈلسٹ بیٹی نے اسکالرشپ کے نام پر فراڈ کا شکار ہوکر (بظاہر) خود کو موت کے حوالے کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: لائبہ اعجاز کیس: امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر کروڑوں کا فراڈ، ملزم گرفتار

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کے والد محمد اعجاز کے لیے اب زندگی بھر کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے خواب پورے ہوتے نہیں دیکھ سکیں گے۔ لائبہ ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننے کی خواہش رکھتی تھی، اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانا چاہتی تھی اور اس کو 20 اکتوبر پاکستان چھوڑنا تھا جس کے لیے فلائٹ بھی طے ہوچکی تھی لیکن اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ اور اس سے وابستہ صدمہ نہ جھیل پاتے ہوئے وہ دنیا ہی چھوڑ گئی۔

محمد اعجاز نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ساری زندگی اس بات کا پچھتاوا رہے گا کہ ’انہوں نے خود کو سپریم کورٹ کا رجسٹرار ظاہر کرنے والے ’ایجنٹ‘ نعمان کے دعووں کی تصدیق کیوں نہیں کی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہ وہ سپریم کورٹ جاکر اس کی حیثیت معلوم کرسکے اور نہ ہی اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 13 میں قائم اس کی کنسلٹنسی ایجنسی کے دفتر جاکر معلومات حاصل کیں۔ ان کے مطابق بعد میں نعمان کے تمام دعوے جعلی ثابت ہوئے اور ان کے خاندان کے ساتھ 93 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا جس کے بعد ان کی ہونہار بیٹی کی زندگی بھی ختم ہوگئی۔

محمد اعجاز نے کہا کہ نعمان نے جب 26 ہزار ڈالر اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائے تو انہیں پہلی مرتبہ شک ہوا بعد ازاں اس نے یہ رقم لائبہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی تاکہ بینک اسٹیٹمنٹ تیار کیا جاسکے تاہم اس کے بعد وہ ٹرانزیکشن بھی جعلی ثابت ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس انکشاف سے لائبہ کو شدید صدمہ پہنچا اور وہ اس بات پر بیحد دکھی تھی کہ اس کے برسوں کے خواب ریزہ ریزہ ہوگئے لہٰذا وہ اس صدمے سے بالکل ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔

لائبہ سے آخری بات کب ہوئی؟

لائبہ کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی سے آخری مرتبہ جمعہ 9 اکتوبر کو بات ہوئی تھی اور وہ اس وقت پریشان تھی جس کے بعد وہ اچانک گھر سے چلی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جب اس کے موبائل فون کی لوکیشن ٹریس کی گئی اور اس تک پہنچا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں ایک درخت سے بیجان لٹکی ہوئی ہے۔

’یہ خودکشی نہیں قتل ہے‘

محمد اعجاز کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔

ان کے بقول لائبہ کو 20 لاکھ روپے کا مطالبہ کرکے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا اور بعد میں اس کی لاش ملی۔ والد نے اس واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پہلو سے بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ تاہم ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

کال سینٹر کے انٹرویو سے 93 لاکھ روپے کے فراڈ تک

محمد اعجاز کے مطابق لائبہ کی ملزم نعمان سے پہلی ملاقات ایک کال سینٹر میں انٹرویو کے دوران ہوئی تھی جہاں اس نے بتایا تھا کہ وہ پارٹ ٹائم کام کرتا ہے۔ اس کے بعد نعمان ان کی دکان پر بھی آنے لگا اور رفتہ رفتہ اسے رقم دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

لائبہ کے امریکا میں داخلے اور تعلیم کے لیے درکار رقم جمع کرنے کی غرض سے سونے کے زیورات بھی فروخت کیے گئے جنہیں نعمان نے خود فروخت کروایا تھا۔

مزید پڑھیے: گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

والد کے مطابق لائبہ کی امریکا روانگی سے متعلق تمام انتظامات بظاہر مکمل دکھائی دے رہے تھے۔ آج لائبہ کا انٹرویو ہونا تھا جبکہ 20 اکتوبر کو امریکا روانگی کے لیے اس کی فلائٹ بھی طے تھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تمام معاملات مبینہ فراڈ کا حصہ تھے۔

محمد اعجاز نے بتایا کہ ملزم نعمان کی ایک ساتھی عائزہ نامی خاتون بھی لائبہ سے رابطے میں تھی جو خود کو ہارورڈ یونیورسٹی کی ملازمہ ظاہر کرتی تھی۔

ایک خاندان کے کئی خواب، نوسرباز کے جھانسے میں آ گئے

محمد اعجاز کے مطابق ان کے خاندان میں لائبہ سمیت 4 بیٹیاں اور 3 بیٹے ہیں۔ ان کی ایک بیٹی قائداعظم یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے، دوسری نے ایئر یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جبکہ ایک بیٹی چین سے تعلیم مکمل کرکے واپس آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم نعمان نے ان کے ایک بیٹے کو سپریم کورٹ میں ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر بھی 5 لاکھ روپے وصول کیے۔

والد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے محنت کررہے تھے اور لائبہ کے امریکا جانے سے انہیں امید تھی کہ وہ اپنے خواب پورے کرے گی لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص پر وہ اعتماد کررہے ہیں وہ ان کے خاندان کے لیے اتنے بڑے المیے کا باعث بن جائے گا۔

وزیر داخلہ اور وزیراعظم سے انصاف کی اپیل

محمد اعجاز نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ کسی اور خاندان کو اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملزمان کو ایسی سزا ملے جو دوسروں کے لیے عبرت بنے اور مستقبل میں کوئی اور لائبہ ان کے ہاتھوں اپنی جان نہ گنوائے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ کی لاش گرین بیلٹ سے برآمد

ایک باپ کے لیے اس سے بڑا دکھ اور کیا ہوگا کہ جس بیٹی کے روشن مستقبل کے خواب اس نے اپنی آنکھوں میں سجائے ہوں اور جسے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی تیاری کررہا ہو وہی بیٹی اچانک اس دنیا سے ہی چلی جائے۔ محمد اعجاز کے لیے اب نہ بیٹی کی روانگی اور نہ ہی بیرون ملک سے فون پر اس کی خوشی سے لپریز کالز کا انتظار باقی رہا اور نہ ہی وہ ’تابناک‘ مستقبل دیکھنے کی آرزو رہی جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی تک داؤ پر لگا دی تھی۔ اب ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے ذمے دار قانون کی گرفت میں آئیں اور کسی اور باپ کو اپنی لاڈلی کے لیے اس طرح انصاف نہ مانگنا پڑے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp