ملتان کے قریب حادثے کا شکار ہونیوالی رحمان بابا ایکسپریس کے تمام مسافروں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے، حادثے میں جاں بحق ہونیوالے مسافروں کی مجموعی تعداد 6 ہوگئی ہے، جبکہ 30 سے زائد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
شیر شاہ پل کے قریب پیش آنیوالے اس حادثے میں ٹرین کی تمام 14 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں، جبکہ متعدد مسافر بوگیوں میں پھنس گئے، جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کچلاک یارڈ میں جناح پیپلز ٹرین کا انجن پٹڑی سے اتر گیا، متبادل انجن سے سروس بحال
حادثے کے بعد جائے وقوع پر خوف و ہراس پھیل گیا اور متاثرہ بوگیوں سے چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے مسافروں کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کا عمل شروع کردیا۔
ویڈیو: کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس جو ملتان میں حادثے کا شکار ہوئی، 14 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، 4 مسافر جاں بحق، 30 سے زیادہ زخمی ہیں۔۔!! pic.twitter.com/5X3Cr4p7o6
— Khurram Iqbal (@khurram143) October 13, 2026
حکام کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد نشتر اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے ریلیف ٹرین بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھی۔
حادثے کے باعث اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی، جبکہ متاثرہ مسافر اپنا سامان کے ہمراہ ریلوے ٹریک کے کنارے موجود رہے۔
مزید پڑھیں: مٹیاری کے قریب مال گاڑی حادثہ، اپ اور ڈاؤن ٹریک بند، ٹرین آپریشن 24 گھنٹے متاثر رہنے کا خدشہ
وزیراعظم شہباز شریف نے رحمان بابا ایکسپریس حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں سے اظہارِ افسوس کیا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
حادثے کی تحققات کا حکم
وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کو حادثے کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو زخمی مسافروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور جاں بحق و زخمی افراد کو ریلوے انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
وزارتِ ریلوے کے مطابق ٹرین آپریشن لودھراں اور جہانیاں کے راستے مکمل طور پر بحال ہے، جبکہ متاثرہ مسافروں کی سہولت اور ان کی منزل تک رسائی کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔














