سینیئر سیاستدان سینیٹر فیصل واوڈا نے پاکستان، قومی پرچم، قومی ترانے اور پاک فوج کے خلاف بات کرنے والوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مخالف بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائےگا، ایسے لوگوں کی نسلیں تباہ کردیں گے۔ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف 180 دن بہت اہم ہیں۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں نیا سیٹ اپ آچکا ہے، جسے کارکردگی دکھانے کے لیے 180 دن کا ہدف دیا گیا ہے۔ اگر یہ سیٹ اپ کارکردگی نہ دکھا سکا تو اس سے بھی بہتر لوگ آئیں گے۔ ناکامی کی ایک فیصد بھی گنجائش نہیں، کامیابی 100 فیصد چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں نیا سیٹ اَپ اچھی کارکردگی دکھائے گا تو ہی عوام کی رائے بدلے گی۔ عوام کو کسی کے رنگ، قد یا کاٹھ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں اپنے مسائل کے حل سے غرض ہے۔ ہمیں فیصل کریم کنڈی سے کارکردگی چاہیے، بہانے نہیں۔ یہ نہیں سننا چاہتے کہ فلاں نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا۔سینیٹر فیصل واوڈا
— WE News (@WENewsPk) October 13, 2026
مزید پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ
فیصل واوڈا نے کہا کہ کچھ ایسے حقائق ہیں جنہیں وہ چھپانا نہیں چاہتے۔ ایک مخصوص ذہنیت ہے جو پاکستان کا قومی پرچم اٹھانے اور قومی ترانہ پڑھنے سے انکار کرتی ہے۔ ایسی ذہنیت رکھنے والوں کی نسلیں تباہ کردیں گے اور انہیں کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ قومی پرچم اور قومی ترانے کی مخالفت کرنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال کی حکومتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے۔ صوبے کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے، تاہم اب خیبرپختونخوا میں نیا سیٹ اپ آگیا ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ 400 لوگوں کو لے جاکر طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی کسی کا نعرہ لگائے اور لوگ اس کے پیچھے چل پڑیں۔ یہ ملک نہ کسی کے باپ کا ہے اور نہ ہی کسی کے لیڈر کے باپ کا۔
انہوں نے دہشتگردی اور شہدا کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 7 ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں پاکستان کے عام شہری، جوان اور اہلکار شامل ہیں۔ شہدا کے اہل خانہ کے لیے فنڈز نہیں ہیں اور یہ لوگ اپنی عیاشیاں جاری رکھیں، اب ایسا نہیں ہوگا۔
فیصل واوڈا نے کہاکہ ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ افغان شہریوں کو صوبے میں کیوں رکھا گیا تھا؟ فوج قربانیاں بھی دے، ملک کو ڈیفالٹ سے بھی بچائے اور سرمایہ کاری بھی لے کر آئے تو پھر یہ لوگ کون ہیں؟
گورنر راج اور ایمرجنسی لگانا کوئی غیر آئینی عمل نہیں ہے۔ فوج کی قدر اس لیے کرتا ہوں کیونکہ وہ کامیابیاں لے کر دے رہی ہے۔ کے پی میں جو ٹیم آئی ہے، اس نے پرفارمنس دے دی تو اس پرفارمنس کے فارمیٹ کے بعد عوام خود سب کو اٹھا کر سڑکوں پر مارے گی۔سینیٹر فیصل واوڈا https://t.co/zjDzm4YoEa
— WE News (@WENewsPk) October 13, 2026
انہوں نے کہا کہ جو لوگ تمہاری جمہوریت کی لاش سنبھال کر چل رہے ہیں، ان کا نام کیوں نہیں لیتے؟ اب جو شہدا کے خلاف بات کرے گا، ہم اس کی زبان بھی کھینچ لیں گے۔ سپہ سالار نے ہمیں جو کامیابی دلائی ہے، اس کی اور شہدا کی قربانیوں کی قدر کرنا ہوگی۔
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے متعلق سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ گورنر وہ کام کرکے دکھائیں گے جس کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ فیصل کریم کنڈی کو واضح طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ اب ناکامی کا کوئی آپشن موجود نہیں۔ نئے سیٹ اپ کو 180 دن کا ہدف دیا گیا ہے اور اگر کارکردگی سامنے نہ آئی تو مزید بہتر لوگ سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ابھی پہلا حصہ سامنے آیا ہے، دوسرا اور تیسرا حصہ بھی آنا باقی ہے۔ تمام معاملات کا انحصار کارکردگی پر ہے، اگر کارکردگی ہوگی تو بہت سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا کے ذریعے معاملات کو نئے سرے سے شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
فیصل واوڈا نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹی ختم، شو ختم۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 27 تاریخ کو تحریک انصاف کی کابینہ کے 8 افراد اسلام آباد میں ان کے ساتھ موجود تھے۔
پی ٹی آئی کارکنان نے جان بوجھ کر گرفتاریاں دیں!
آئین و قانون کی بالادستی سختی سے قائم ہوگی، فیصلے کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گے۔ عوام اب نعروں کے بجائے کام کرنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے،سینیٹر فیصل واوڈا https://t.co/KvzeMWR2hI— WE News (@WENewsPk) October 13, 2026
انہوں نے بتایا کہ 27 ستمبر کو 2 سینیئر صحافیوں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ کچھ کرنے جارہے ہیں؟ جس پر انہوں نے نہ ہاں میں جواب دیا اور نہ ہی انکار کیا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور صدر آصف علی زرداری کو بتائی اور دکھائی جائیں گی۔ پاکستان کی ترقی کے لیے صدر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ ہوں گے۔
مزید پڑھیں: مقبولیت کا دعویٰ مگر گورنر راج پر پی ٹی آئی والے ملک میں کہیں بھی سڑکوں پر کیوں نہ نکل سکے؟
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بھی دھوکہ کیا گیا ہے، لیکن وہ مولانا کے ساتھ کھڑے ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ چند گھنٹوں یا دنوں میں ممکن نہیں، اس کے لیے وقت درکار ہوگا۔ تمام معاملات کارکردگی سے مشروط ہیں اور کارکردگی سامنے آنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے بقول جمہوریت کی لاش کو ہٹانے کے لیے جمہوروں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔














