سپریم کورٹ آف پاکستان نے رشتے سے انکار پر خاتون کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت سے عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں مجرم محمد کامران کی نظرِ ثانی اپیل مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ مجرم اپنے خلاف دیے گئے فیصلے میں کوئی ایسی چیز پیش نہیں کرسکا جو اس کے مؤقف کو سپورٹ کرتی ہو کہ وہ کسی رعایت کا مستحق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: گجرات قتل کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل
مجرم نے رشتے سے انکار پر خاتون کو گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔ مجرم محمد کامران نے سپریم کورٹ کے 16 مئی 2025 کے حکمنامے کے خلاف نظرِ ثانی اپیل میں مؤقف اپنایا کہ چونکہ وہ ڈیتھ سیل میں سزا کے 15 سے 16 سال مکمل کرچکا ہے، اس لیے دلاور حسین بنام ریاست اور حسن بنام ریاست مقدمات کے فیصلوں کی روشنی میں متوقع عمر کے اصول کے تحت اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے فیصلے میں شیر افضل بنام اسٹیٹ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متوقع عمر کا اصول اس مقدمے پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لیے 3 شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایک مجرم 25 سال سزا کاٹ چکا ہو، اس کے جرم کی نوعیت کو کم کرنے کے لیے کوئی اضافی وجوہات ہوں اور جرم کی نوعیت ایسی نہ ہو جو نفرت انگیز جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کے ضمیر کے لیے اس سے بڑھ کر شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کی محبت حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اس کے انکار کو قبول کرنے کے بجائے تشدد کا راستہ اپنائے۔ وہ اپنی زخمی انا کی تسکین کے لیے اس کی جان لے لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: والد کو پھانسی دینے سے بچی یتیم ہوجائے گی، بیوی اور بیٹی کے قاتل کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
شادی ایک باہمی اور رضاکارانہ معاہدہ ہے، جس کے لیے دونوں فریقوں کی آزادانہ رضامندی ضروری ہے۔ جب کوئی عورت اپنے انکار کے بنیادی حق کو استعمال کرتی ہے تو وہ اس شخص کے اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ گویا اس عورت پر اس کی ملکیت ہے۔ پدرشاہی ذہنیت کے تحت مرد اس انکار کو اپنی ’غیرت‘ پر حملہ تصور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں عورت کا تعاقب کرنے، اس کے گھر میں زبردستی داخل ہونے، تیزاب گردی یا عورت کے قتل جیسے جرائم جنم لیتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ہمارے ملک کے پدرشاہی نظام میں غگ، سوارا اور وٹہ سٹہ کی رسمیں عورت کو ایک خودمختار فرد کے تشخص سے محروم کر کے اس کی حیثیت ایک ملکیتی چیز کے طور پر کردیتی ہیں۔
اس ذہنیت کو اسلام کے ساتھ کسی طور ہم آہنگ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اسلام نکاح کے درست اور معتبر ہونے کے لیے عورت کی آزادانہ رضامندی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ ہر بالغ فرد، خواہ مرد ہو یا عورت، اس بات کا یکساں حق رکھتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا اسے شادی کرنی ہے، کب کرنی ہے اور کس سے کرنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: خان پور میں دہشتگردی کیس میں مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
یہ حق کوئی ایسی رعایت نہیں جو عورت کو اس کے خاندان، قبیلے یا پورے معاشرے کی جانب سے عطا کی گئی ہو، بلکہ وہ یہ حق اپنی ذات کی بنیاد پر رکھتی ہے۔ ایسے طرزِ عمل کا کوئی جواز نہیں، خواہ اس کا ارتکاب غیرت، رسم و رواج، مجروح انا یا جذبات کے نام پر ہی کیوں نہ کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ پاکستان خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن کا دستخط کنندہ بھی ہے، جس کا آرٹیکل 16 عورتوں کو آزادانہ شادی کا حق دیتا ہے۔














