خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال پر ہشتنگری میں خاطرخواہ ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ احتجاج کے لیے نہ کارکنوں کی قابلِ ذکر تعداد جمع ہوئی اور نہ ہی پارٹی کی ضلعی قیادت یا کوئی نمایاں سیاسی شخصیت مظاہرے میں شریک ہوئی، جبکہ علاقے میں معمولاتِ زندگی بحال رہے۔
پشاور کے علاقے ہشتنگری میں احتجاج کے ممکنہ انعقاد کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ بکتر بند گاڑیوں، ایلیٹ فورس اور ابابیل فورس کے ڈنڈا بردار اہلکار مختلف مقامات پر چوکس دکھائی دیے، تاہم بازار میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں، تمام دکانیں کھلی رہیں اور ٹریفک کی آمدورفت بھی بحال رہی۔
موقع پر موجود صورتحال کے دوران پی ٹی آئی کے چند کارکن مختلف گلیوں میں موجود رہے، تاہم وہ کھل کر سامنے آنے سے گریز کرتے دکھائی دیے۔ پولیس اہلکاروں اور کارکنوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں پولیس کی پیش قدمی پر کارکن اپنی جگہ تبدیل کرلیتے۔ یہ صورتحال دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہی، تاہم کوئی بڑا احتجاجی اجتماع تشکیل نہ پاسکا۔
دوسری جانب کارکن پارٹی قیادت کے منتظر رہے، لیکن عرفان سلیم سمیت کوئی نمایاں رہنما موقع پر نہیں پہنچا۔ احتجاج میں قیادت اور کارکنوں کی عدم موجودگی کے باعث مظاہرے کی سرگرمیاں آگے نہ بڑھ سکیں اور کارکن بالآخر اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔
شہریوں کا گورنر راج اور ایڈوائزری کونسل سے توقعات کا اظہار
ہشتنگری میں موجود بعض شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کی اور امید ظاہر کی کہ موجودہ حالات میں انتظامی تبدیلی سے خیبرپختونخوا کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے تقریباً 13 سالہ دورِ حکومت میں احتجاجی سیاست نمایاں رہی، جبکہ صوبے کو درپیش بنیادی مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف پولیس اور پاک فوج کے اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، تو دوسری جانب سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی سیاست کے بجائے صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
شہریوں نے گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں قائم خصوصی ایڈوائزری کونسل سے بھی توقعات وابستہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل میں شامل اہل اور تجربہ کار شخصیات صوبے کے انتظامی، معاشی اور دیگر مسائل کے حل میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔
تاہم گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سیاسی و آئینی بحث اپنی جگہ موجود ہے، جبکہ اس اقدام کے حقیقی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی انتظامی حکمت عملی صوبے میں امن و امان، گورننس اور عوامی مسائل کے حل میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
ہشتنگری کی صورتحال نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ گورنر راج کے خلاف احتجاجی کال پر کارکنوں کی عدم شرکت کیا پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے لیے سیاسی چیلنج ہے، یا یہ محض ایک احتجاجی سرگرمی میں محدود ردعمل تھا؟













