خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے پر ایمرجنسی کا فیصلہ کیا، اعظم نذیر تارڑ

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور سرحد پار سے دراندازی کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق صوبے میں دہشتگردی کے واقعات 2021 سے 2024 کے دوران 2 ہزار 911 تھے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر 3 ہزار 787 ہوگئی۔

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے تک صورت حال پر غور کرنے کے بعد وزیراعظم کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صدر مملکت کو مشورہ دینے کی سفارش کی۔ ان کے بقول یہ فیصلہ خوش دلی سے نہیں بلکہ تمام دوسرے راستے اختیار کرنے اور حالات میں بہتری نہ آنے کے بعد آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔

دہشت گردی کے مقابلے میں سیاست کو ترجیح دینے کا الزام

وزیر قانون نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا طویل عرصے سے صوبے کے متعدد اضلاع میں دہشتگردی کی سنگین صورت حال اور انسداد دہشتگردی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر توجہ دینے کی شکایت کر رہے تھے۔ ان کے مطابق گورنر نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خط کے ذریعے بھی صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔

اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی سنگین صورت حال کے باوجود سیاسی سرگرمیوں اور دوسرے شہروں کے دوروں کو ترجیح دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات، زخمیوں کی عیادت، سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد مارچ سے گورنر راج تک: سہیل آفریدی نے خود کو بند گلی میں کیسے دھکیلا؟

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا چاہیے۔ مسلح افواج، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کے ساتھ شہادتوں اور زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مذاکرات میں قیدی رہنما کی ملاقات اور سہولتوں کا معاملہ

اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد پر چڑھائی اور دارالحکومت فتح کرنے سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام سمیت حکومتی نمائندوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور اپوزیشن کے وفد کے ساتھ بات چیت کی۔ ان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں 2 روز تک مذاکرات ہوئے اور مختلف مسودوں پر غور کیا گیا۔

وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات پر بات چیت کے دوران اپوزیشن کی جانب سے جیل میں قید اپنے رہنما سے ملاقات اور انہیں سہولتیں دینے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی قیدی کی رہائی یا مقدمے میں قانونی کارروائی کا اختیار متعلقہ عدالتی نظام کے تحت استعمال ہوتا ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کو سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

2023 کے مذاکرات اور 9 مئی کے واقعات کا حوالہ

وفاقی وزیر قانون نے ماضی کے سیاسی مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2023 میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے پر اتفاق ہوا تھا۔ ان کے مطابق طے پایا تھا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں اسمبلیاں تحلیل کرکے ستمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں انتخابات کرائے جائیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے بانی نے بعد میں مذاکرات میں طے پانے والے معاملات مسترد کر دیے، جس پر دیگر شرکا نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے 9 مئی 2023 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد ملک کی سیاسی صورت حال مزید کشیدہ ہوئی۔

آئینی تقاضے اور ایمرجنسی کا طریقہ کار

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے آئین میں موجود اختیارات اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو منظوری کے لیے 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت بھی صوبے میں آئینی نظام کے غیر مؤثر ہونے کی صورت میں اقدامات کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے بقول ایمرجنسی کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی امور کی ذمہ داری سونپی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا مقصد سیاسی انتقام نہیں بلکہ دہشتگردی کا خاتمہ ہے، حامد میر

وزیر قانون نے بتایا کہ صوبے کے 12 زیادہ متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اعلامیہ اور اس کے بعد کے اقدامات پارلیمان کے سامنے رکھے گئے ہیں، جہاں ایوان اس معاملے پر بحث اور منظوری کے حوالے سے اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ مشکل مگر آئینی تھا، بلاول بھٹو، مذاکرات کے لیے پھر ہاتھ بڑھانے کی پیشکش

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ مشکل ضرور تھا، لیکن ان کے بقول موجودہ حالات میں یہ آئینی قدم اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے لیے محدود ہوتی سیاسی گنجائش پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کے لیے ایک بار پھر ہاتھ بڑھانے کی پیشکش کی۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور ملک میں دہشتگردی کے واقعات کے دوران خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے وزیراعلیٰ کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے بیانات نے صورت حال کو مزید مشکل بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کے لیے دہشتگردی کے مقابلے سے انکار کرنا ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ صدر مملکت کے اقدامات اور صوبائی قیادت کے بیانات کے بعد ایمرجنسی کے فیصلے سے گریز کے لیے کوئی آئینی، قانونی یا سیاسی جواز باقی رہ گیا تھا؟

مذاکرات میں پیشرفت کی امید تھی

بلاول بھٹو نے بتایا کہ ان کی جماعت کے 2 نمائندے مذاکراتی کمیٹی میں شامل تھے اور انہیں رات گئے اطلاع دی گئی کہ مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی اپوزیشن دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں اقدامات اور دہشتگردی کے خلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کرنے کے لیے تیار دکھائی دے رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تجویز یہ تھی کہ خیبر پختونخوا کے دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں صوبائی حکومت اپنا کردار ادا کرے، جبکہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا باہمی معاہدے کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی طے کریں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ انہیں اس پیشرفت سے امید پیدا ہوئی تھی اور وہ اسے ملک کی سیاست میں بڑی کامیابی سمجھ رہے تھے، کیونکہ حکومت، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے درمیان دہشتگردی جیسے اہم معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کا امکان تھا۔

سیاسی گنجائش محدود ہونے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں ذمہ دار

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے سیاسی گنجائش محدود ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف اسی جماعت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی سیاسی گنجائش متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال کی ذمہ داری حکومت کے ساتھ اپوزیشن پر بھی عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔ بلاول بھٹو نے وزیراعظم، وفاقی حکومت، اپوزیشن قیادت اور سیاسی جماعتوں سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریق بات چیت کے ذریعے درمیانی راستہ نکالیں۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بگڑتی امن و امان کی صورت حال کے باعث حکومت کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ماضی کے فیصلوں اور اپنی غلطیوں کو نظرانداز کرکے خود کو بے قصور ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کو متحد ہو کر لڑنا ہوگی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایمرجنسی کے فیصلے سے پہلے حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی اور خاصی لچک دکھائی، تاہم حالات سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس اقدام کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایوان میں اپنے ماضی کو سامنے رکھ کر بات کرنی چاہیے۔

ماضی کے فیصلوں اور دہشتگردوں کی واپسی کا حوالہ

وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی سابق حکومت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی ایوان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی موجودگی میں دہشتگردوں کو واپس لانے کی حمایت کی گئی تھی۔ انہوں نے بھارت کے گرفتار پائلٹ ابھی نندن کی واپسی کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر بات کرتے وقت ماضی کے فیصلوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں تقریباً 13 سال سے حکومت میں رہی ہے، اس لیے اسے اپنی حکمرانی اور فیصلوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو ماضی کی غلطیاں بھلا کر خود کو ہر الزام سے بری الذمہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔

جیل میں سہولتوں اور مذاکرات کا معاملہ

خواجہ آصف نے عمران خان کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے بھی قید کے دوران مشکلات برداشت کیں، لیکن ان کی رہائی کے لیے ڈی چوک پر احتجاج اور تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔

وزیر دفاع نے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی اور مختلف معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے لچک دکھائی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کو مذاکرات کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے تھا۔

دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد پر زور

خواجہ آصف نے طالبان کی جانب سے ایمرجنسی کے فیصلے اور بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ریاست کے مخالفین کی شناخت واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان پاکستانی شہریوں اور بچوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں، اس لیے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست کا ساتھ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان اور انتظامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی معاملات کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ وزیر دفاع نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور قومی سلامتی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

مذاکراتی کمیٹی نے معاملہ حل کرنے کی بھرپور کوشش کی، اسپیکر قومی اسمبلی

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے ارکان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی میں علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر، عادل اور دیگر ارکان شامل تھے، جبکہ حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ، سینیٹر شیری رحمان اور نوید قمر بھی اس عمل کا حصہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جو متعلقہ فریقوں کے اختیار سے باہر ہو جاتے ہیں، اس لیے مذاکرات کے نتیجے میں معاملہ طے نہ پانے کے باوجود کمیٹی کے ارکان کی کوششوں کو سراہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں دوبارہ مذاکراتی کمیٹی بنانا پڑی تو یہی کمیٹی بنائی جائے، کیونکہ اس کے ارکان پاکستان کی بہتری اور قومی مفاد کے لیے سوچتے ہیں۔

اس موقع پر اسپیکر نے آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سید افتخار علی گیلانی کی مہمانوں کی گیلری میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید بھی کہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp