شدید گرمی سے ہر سال سیکڑوں امریکی ڈاکیے ہلاک، ہیٹ اسٹروک اور ہائپر تھرمیا کے خطرات بڑھ گئے

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید گرمی ہر سال سیکڑوں ڈاکیوں کی جان لے لیتی ہے، جبکہ امریکا میں ڈاک کی ترسیل کرنے والے ملازمین کو گرمی سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ طویل وقت تک کھلے آسمان تلے کام، ایئر کنڈیشننگ سے محروم گاڑیاں اور مقررہ وقت میں ڈاک پہنچانے کا دباؤ ملازمین کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گرمی کے باعث تھکن، ہیٹ اسٹروک میں کیا کرنا چاہیے؟

 نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں ہر سال گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث 559 سے زائد کارکن ہلاک ہوجاتے ہیں، جبکہ ڈاک کی ترسیل کرنے والے ملازمین میں 2 سال کے دوران گرمی سے متاثر ہونے کے 1,330 سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

ٹیکساس میں ڈاکیا یوجین گیٹس بھی گرمی کی شدت کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ وہ جون 2023 میں ڈاک تقسیم کررہا تھا جب اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ اس نے صبح 7 بج کر 30 منٹ پر اپنی اہلیہ کارلا کو پیغام بھیجا تھا کہ شدید گرمی ہے۔ اس وقت درجہ حرارت 87 ڈگری فارن ہائیٹ تھا۔ چند گھنٹے بعد وہ گر کر بے ہوش ہوگیا۔ طبی معائنہ کار کے مطابق ہائپر تھرمیا اس کی موت کا سبب بننے والے عوامل میں شامل تھا۔

ہائپر تھرمیا کیا ہے؟

ہائپر تھرمیا ایسی کیفیت ہے جس میں بیرونی گرمی کے باعث جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے اور جسم اپنا درجہ حرارت معمول پر رکھنے میں ناکام ہونے لگتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت 104 ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

یہ کیفیت ہائپو تھرمیا کے برعکس ہے، جس میں جسم کا درجہ حرارت معمول سے کم ہوجاتا ہے۔ شدید گرمی میں جسم کا قدرتی نظامِ درجہ حرارت متاثر ہونے سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ہائپر تھرمیا کی علامات

گرمی سے متاثر ہونے کی علامات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ جسم کتنا گرم ہوا ہے اور پانی کی کمی کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ ابتدائی علامات میں سر درد اور پٹھوں میں کھنچاؤ شامل ہیں، تاہم شدید پانی کی کمی جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی حدت نے پرندوں کی بقا خطرے میں ڈال دی، سائنسدانوں کی وارننگ

بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اعضا ناکارہ ہونے اور موت کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ علامات تیزی سے ظاہر ہوسکتی ہیں یا ان کے پیدا ہونے میں کئی گھنٹے اور دن بھی لگ سکتے ہیں۔

شدید گرمی سے متاثرہ شخص کی مدد کیسے کریں؟

اگر کسی شخص میں گرمی سے متاثر ہونے کی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر کام روک کر ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر منتقل کرنا چاہیے جہاں ہوا کی آمدورفت مناسب ہو۔

ابتدائی اقدامات میں ٹھنڈا پانی یا نمکیات والا مشروب تھوڑا تھوڑا پینا، اضافی کپڑے ڈھیلے کرنا یا اتارنا، آرام کرنا، ٹھنڈے پانی سے نہانا اور پیشانی پر ٹھنڈا گیلا کپڑا رکھنا شامل ہیں۔ بغلوں اور رانوں کے جوڑ کے قریب برف کی تھیلی یا ٹھنڈی پٹیاں رکھنے اور پنکھے سے جسم کو ٹھنڈا کرنے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

کلائیوں کو تقریباً 60 سیکنڈ تک ٹھنڈے پانی کے نیچے رکھنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ علامات ختم ہونے تک جسمانی سرگرمی دوبارہ شروع نہیں کرنی چاہیے۔

اگر ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ آرام اور ابتدائی دیکھ بھال کے باوجود ایک گھنٹے میں علامات بہتر نہ ہوں تو بھی طبی معائنہ کرانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp