آزاد جموں و کشمیر کی وادی نیلم میں دریائے نیلم میں ڈوبنے والی 19 سالہ خاتون کی لاش 2 روز کی تلاش کے بعد بدھ کو لائن آف کنٹرول کے پار مقبوضہ کشمیر سے برآمد کرلی گئی۔ لاش کی بازیابی کے لیے پاکستانی اور بھارتی فوج کے درمیان رابطے اور تعاون سے ریسکیو آپریشن کیا گیا۔
ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) نیلم کے افسر ایم اختر ایوب کے مطابق اپر نیلم کی رہائشی 19 سالہ نوشین زوجہ مصدق پیر کی صبح تقریباً 7 بجے لوات اور نگدر کے درمیان دریائے نیلم میں جا گری تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ پیر کی صبح تقریباً 9 بجے خاتون کی لاش نگدر کناری کے سامنے دریائے نیلم کے دوسری جانب دکھائی دی، تاہم کچھ دیر بعد لاش نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ پیر اور منگل کو لاش کی تلاش جاری رکھی گئی، لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
ایم اختر ایوب کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے کیرن کے سامنے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب خاتون کی لاش دوبارہ نظر آئی، جس کے بعد اس کی بازیابی کے لیے پاکستان آرمی کی کیرن یونٹ نے بھارتی فوج سے رابطہ کیا اور دونوں جانب کے تعاون سے ریسکیو آپریشن ممکن بنایا گیا۔
ڈی ڈی ایم اے افسر نے بتایا کہ ابتدا میں مقامی تیراک کی مدد سے لاش نکالنے کی کوشش کی گئی، تاہم دریائے نیلم کے تیز بہاؤ کے باعث کامیابی نہ مل سکی۔
بعد ازاں ریسکیو بوٹس منگوائی گئیں اور صبح 11 بجے باقاعدہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی کارروائی کے بعد دوپہر 12 بجے خاتون کی لاش برآمد کرلی گئی، جسے ڈی ڈی ایم اے نیلم کی ٹیم نے لواحقین کے حوالے کردیا۔
ریسکیو آپریشن میں پاکستان آرمی، پولیس، کشمیر بوٹنگ کلب شاردہ اور مقامی افراد نے حصہ لیا۔
ایم اختر ایوب نے دریائے نیلم میں پیش آنے والے ایسے حادثات کے تناظر میں ضلع نیلم میں باقاعدہ واٹر ریسکیو شعبہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے اور ضروری آلات کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے دوران بروقت امدادی کارروائیاں کی جاسکیں۔
دوسری جانب پولیس اسٹیشن لوات کے ایس ایچ او نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے کے پیچھے گھریلو ناچاقی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ متوفیہ کے لواحقین نے خاتون کی ذہنی صحت سے متعلق ایک مسئلے کا ذکر کیا ہے، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی طبی تصدیق سامنے نہیں آئی۔














