چین میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے ایک نئے جوڑے کی ملک میں اس وقت دھوم مچ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ دلہا اور دلہن دونوں کا نام بالکل ایک ہی ہے جسے عین انہی چینی حروف سے لکھا جاتا ہے بلکہ صرف نام ہی تک نہیں دونوں میں اور بہت سی باتیں مشترک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ایک جین انسانی دماغ کی پیچیدہ صلاحیتوں کو تشکیل دیتا ہے؟، چینی سائنسدانوں نے اہم ترین راز جان لیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں کی زندگی کے کئی دیگر امور میں بھی گہری قدر مشترک پائی جاتی ہے۔ دونوں کا شعبہ بھی ایک ہی ہے۔ اس انوکھے اتفاق نے جہاں عملی زندگی میں کچھ دلچسپ مشکلات پیدا کی ہیں وہیں لوگ اسے خالص قسمت قرار دے رہے ہیں۔
6 اکتوبر کو مشرقی چین کے صوبے ژجیانگ میں 33 سالہ دولہا اور 28 سالہ دلہن جن دونوں کا نام ژو شیاؤکونگ‘ ہے، رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کی شادی کا پوسٹر جب آن لائن شیئر ہوا تو اس پر دونوں کے ایک جیسے نام نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
ملاقات سے لے کر شادی تک کا سفرپہلی ملاقات
دونوں کا تعلق بھی صوبے ژجیانگ سے ہے اور دونوں کا پیشہ بھی سول ایوی ایشن انڈسٹری سے وابستہ ہے۔
اہلیہ فضائی میزبان جبکہ شوہر ایوی ایشن سیفٹی آفیسر ہیں۔ دونوں نے سنہ 2016 میں ایک ہی جاب فیئر میں شرکت کی تھی جہاں یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب انٹرویو لینے والے نے ژو شیاؤکونگ پکارا تو وہ دونوں ایک ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔
اس وقت انہوں نے اسے ایک عام سا اتفاق سمجھا تھا۔ بعد ازاں شوہر کی ایک دفتر کی ساتھی جو کہ دلہن کی کلاس فیلو بھی تھیں نے اس اتفاق کو نوٹس کرتے ہوئے ان کا تعارف کروایا اور یوں سنہ 2019 میں ان کے درمیان دوستی اور محبت کا آغاز ہوا۔
زندگی کی دلچسپ مشکلات اور ایک جیسے نام کی وجہ سے اس جوڑے کو کئی دلچسپ اور عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے
مزید پڑھیے: نام رکھنے پر اختلاف: ماں باپ طلاق لینے پر تل گئے، بے نام بچہ دربدر
کاغذات کی تیاری: جب انہوں نے مئی میں اپنی شادی رجسٹر کروائی اور جائیداد کی ملکیت کے سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کیا تو کمپیوٹر ان کی معلومات خودکار طریقے سے پراسیس نہیں کر سکا جس کے بعد عملے کو دستی طور پر (مینولی) ان کے ریکارڈ درج کرنا پڑے۔
بورڈنگ پاس کی تبدیلی: دلہن نے بتایا کہ ایک تفریحی سفر کے دوران وہ غلطی سے اپنے بورڈنگ پاس ایک دوسرے سے بدل بیٹھے۔ چونکہ بورڈنگ پاسز پر صنف ظاہر نہیں ہوتی تھی اس لیے سیکیورٹی عملے کو ان کی شناخت کی خصوصی جانچ کرنا پڑی۔
نام پکارنے کا نظام: دلہن نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ پہلے جب دوست ’شیاؤکونگ‘ پکارتے تھے تو وہ دونوں بیک وقت جواب دے دیتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ایک نظام نکالا جس کے تحت شوہر کو ’دا کونگ‘ (بڑا کونگ) اور اہلیہ کو ’شیاؤ کونگ‘ (چھوٹا کونگ) کہا جانے لگا۔
مزید پڑھیں: چینی معماروں کا کمال، 11 منزلہ عمارت گھنٹوں میں تیار
سوشل میڈیا صارفین نے اس اتفاق پر بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور کچھ نے مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے آنے والے بچے کا نام بھی ژو شیاؤکونگ یا دونوں کے نام ملا کر ’کونگ کونگ‘ رکھ دیں۔ ایک اور صارف نے اس کہانی کو جاپانی ڈائریکٹر شونجی ایوائی کی مشہور رومانوی فلم ‘لو لیٹر’ سے تشبیہ دی ہے جس کے مرکزی کرداروں کا نام بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔













