خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے لوگ بھی امن اور دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، سردار محمد یوسف

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں اور دہشتگردی کا خاتمہ ان کی بھی خواہش ہے کیونکہ صوبے میں امن قائم ہونا پورے خطے کی ترقی، عوام کی سہولت، روزگار، تجارت اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کے لوگ احتجاج میں شامل نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کا اصل چہرہ سامنے آگیا، سردار شاہجہاں یوسف

وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی جبکہ دہشتگردی کے مسلسل واقعات اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں نے صوبے کے حالات کو تشویش ناک بنا دیا تھا۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صرف پی ٹی آئی کے لوگ نہیں رہتے بلکہ وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور عام شہری بھی آباد ہیں جو اپنے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

ان کے بقول کسی بھی ملک، علاقے یا گھر میں امن قائم ہو تو ہی دیگر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقیاتی سرگرمیاں، روزگار کے مواقع، تجارت اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ گزشتہ عرصے کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات اور حملوں میں اضافہ ہوا جبکہ سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بھی شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں سب سے پہلی ترجیح صوبے میں امن قائم کرنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہونی چاہیے تھی تاکہ معمولات زندگی بحال ہوں اور لوگوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کے 11 ارکان کو محکموں کے قلمدان تفویض، نوٹیفکیشن جاری

انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کے حوالے سے اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر مطلوبہ توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق تقریباً 12 اضلاع میں ایسے علاقے موجود تھے جہاں حالات کے باعث لوگوں کا آنا جانا بھی مشکل ہو گیا تھا لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے صورت حال سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی شہادتوں اور دہشتگردی کے واقعات پر صوبائی قیادت کا ردعمل بھی مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ شہید پولیس اہلکاروں کے جنازوں میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی جبکہ دہشتگردی کے واقعات کی مذمت بھی اس انداز میں نہیں کی گئی جس کی توقع کی جاتی ہے۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک خوب صورت صوبہ ہے جہاں کے عوام کی روایات، خاندانی اقدار، مہمان نوازی اور مذہبی وابستگی قابل قدر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے حالات کو سمجھنا اور ان کے مسائل کا احساس کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے باعث سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے اس لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں ہونی چاہییں۔

’احتجاج جمہوری حق ہے لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے‘

وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے احتجاجی طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے تاہم اس حق کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔ احتجاج کے دوران کسی شہری کو نقصان پہنچانا، سرکاری یا عوامی املاک کو متاثر کرنا اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنا قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں احتجاج، مارچ اور جتھے بنانے کو زیادہ اہمیت دی گئی جبکہ اسلحے اور دیگر ذرائع کے ساتھ احتجاجی سرگرمیوں سے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے اور احتجاج کی گنجائش موجود ہے لیکن سیاسی سرگرمیوں کے نام پر عوام کو مشکلات سے دوچار نہیں کیا جانا چاہیے۔

سردار محمد یوسف نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے اور ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس سے ملک میں انتشار پیدا ہونے کے بجائے جمہوری نظام مضبوط ہو۔

ان کے مطابق، کسی بھی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں کا اثر صرف اس کی قیادت یا کارکنوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہری بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

وفاقی کابینہ کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر متفقہ فیصلہ

سردار محمد یوسف نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں خیبرپختونخوا کی صورت حال پر غور کیا گیا اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو ضروری قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق کابینہ کے ارکان کی متفقہ رائے تھی کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ آئین میں بھی ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے گنجائش موجود ہے جب کسی صوبے میں حالات معمول کے مطابق نہ رہیں اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت پیش آئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے اس معاملے میں سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آخری وقت تک کوششیں جاری رکھیں تاکہ بات چیت کے ذریعے کوئی قابلِ قبول حل نکل آئے اور احتجاج کی نوبت نہ آئے۔

’وزیراعظم نے مذاکرات کی کوششیں کیں، وزیراعلیٰ احتجاج پر بضد رہے‘

سردار محمد یوسف نے کہا کہ وزیراعظم نے خود اس معاملے پر خاصی توجہ دی اور حکومت کی ٹیم نے بھی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر حکومتی اتحادیوں کی جانب سے بھی یہ کوشش کی گئی کہ کسی نہ کسی طریقے سے معاملات افہام و تفہیم سے حل ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، پی ٹی آئی قیادت نے کوئی احتجاج یا مزاحمت کیوں نہ کی؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مذاکرات کے بجائے احتجاج کرنے پر اصرار کیا اور حکومت کی جانب سے بات چیت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قبول نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس کے باوجود انہیں وقت دیا تاکہ کوئی راستہ نکل سکے اور معاملات تصادم کے بجائے مفاہمت سے حل ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ قومی اور صوبائی مفاد کو مقدم رکھے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور صوبے میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔

’بلدیاتی اداروں کو ایک روپیہ بھی نہیں ملا‘

سردار محمد یوسف نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تقریباً 13 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن ان کے بقول عوام کو درپیش مسائل حل کرنے اور مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں ویلج کونسلز اور تحصیل کونسلز کے براہ راست انتخابات کرائے گئے لیکن گزشتہ 4 سال کے دوران ان بلدیاتی اداروں کو ایک روپیہ بھی فنڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کا مقصد عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا اور مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی کام کرنا ہوتا ہے تاہم فنڈز کی عدم فراہمی کی صورت میں یہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں آئینی اقدامات کیوں ناگزیر ہوئے؟ وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا

وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کو روزگار، بنیادی سہولتوں، ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان کی ضرورت ہے اس لیے حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ سیاسی بیانات کے بجائے عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

امن کے بغیر ترقی اور عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں

سردار محمد یوسف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کوششوں کے ساتھ سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشتگردی کی وجہ سے طویل عرصے تک مشکلات برداشت کی ہیں اور اب ان کی بنیادی ضرورت امن، تحفظ، روزگار اور ترقی کے مواقع ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ صوبے میں حالات بہتر ہوں، عوام کو تحفظ ملے اور تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو ایک طرف رکھ کر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے تک ایمرجنسی برقرار رہے گی، طلال چوہدری

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر صوبے میں امن قائم ہو جائے تو تجارت، معاشی سرگرمیوں، تعلیم، روزگار اور دیگر شعبوں میں بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن خیبرپختونخوا میں امن کا قیام تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ترجیح ہونی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp