خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے تک ایمرجنسی برقرار رہے گی، طلال چوہدری

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کا نہ وہاں اپنی حکومت بنانے کا کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی سیاسی نشستیں حاصل کرنے کا کوئی ایجنڈا ہے۔ ایمرجنسی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوجاتا یا دہشت گرد اس حد تک کمزور نہیں ہوجاتے کہ خیبرپختونخوا اور پاکستان میں معمولات زندگی بحال ہوسکیں۔

مزید پڑھیں: 13 سالہ اقتدار، پھر گورنر راج کیوں؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی پر بڑے سوالات

طلال چوہدری نے کہاکہ جب دہشت گردوں کے خلاف کھل کر کارروائی نہ کی جائے تو پھر حکومت کے پاس کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ہر سیاسی معاملے پر بات چیت کی گئی۔ پی ٹی آئی استعفے دے کر، اسمبلیاں توڑ کر، مارچ کرکے اور اسلام آباد پر دھاوا بول کر جو مطالبات منوانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی، وہ تمام مطالبات وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات کی میز پر تسلیم کیے جارہے تھے اور انہیں تحریری طور پر ضمانت بھی دی جارہی تھی۔

طلال چوہدری کے مطابق وزیراعظم نے مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل وزیر داخلہ کو واضح ہدایت کی تھی کہ پی ٹی آئی جو بھی سیاسی مطالبات کرتی ہے، وہ تسلیم کیے جائیں، تاہم ایک بات پر اتفاق ضروری ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کو معلوم ہوگیا کہ اس کے تمام سیاسی مطالبات پورے کیے جارہے ہیں تو اس کے باوجود قومی مفاد کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

وزیر مملکت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میثاق جمہوریت 2 کے آغاز کا موقع پیدا ہورہا تھا، لیکن پی ٹی آئی نے اس جانب بھی توجہ نہیں دی۔ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے انہیں افسوس ہے کہ سیاستدان مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کسی قومی مفاد پر اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے، جو ان کے نزدیک سیاستدانوں کی ایک اور ناکامی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت کے پاس جو آئینی راستہ موجود تھا، اسے اختیار کیا گیا۔ کسی بھی سیاسی حکومت کے لیے اس نوعیت کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کا صرف ایک ایجنڈا ہے اور اس میں کوئی سیاسی مقصد شامل نہیں۔ نہ خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہاں سیاسی نشستیں جیتنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت زیادہ عرصے تک وہاں رہنا بھی نہیں چاہتی، تاہم یہ انتظام اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوجاتی یا دہشت گرد اس قدر کمزور نہیں ہوجاتے کہ پاکستان اور خیبرپختونخوا میں معمول کے حالات بحال ہوسکیں۔

وزیر مملکت سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل اور گرفتاریوں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، اگر وہ امن و امان کے مقدمات میں مطلوب ہیں تو انہیں متعلقہ مقدمات میں گرفتار رکھا جائے گا۔ اسی طرح جو افراد عدالتی اشتہاری ہیں، ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے علاوہ کسی شخص کو حراست میں رکھنے یا گرفتار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

طلال چوہدری نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیاسی حمایت اور مزاحمت کے حوالے سے جو صورتحال سامنے آئی، اس نے حکومت کو حیران کردیا۔

ان کے مطابق حکومت کو توقع تھی کہ وہاں سیاسی اجتماعات ہوں گے، احتجاجی سرگرمیاں سامنے آئیں گی یا لوگ مزاحمت کے لیے کھڑے ہوں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسی قسم کی سیاسی مزاحمت سامنے نہیں آئی، بلکہ بعض مقامات پر لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

وزیر مملکت نے کہاکہ گزشتہ 14 سال سے صوبے میں ناقص حکمرانی کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ لوگوں کے بچے اسکول نہیں جاسکتے تھے اور شہری کاروبار کے لیے گھروں سے نہیں نکل سکتے تھے۔ کئی اضلاع میں صورتحال اس قدر خراب تھی کہ وہاں کوئی سرگرمی انجام دینا تو دور، ان علاقوں سے گزرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف وہاں کوئی قابل ذکر مزاحمت سامنے نہیں آئی۔

طلال چوہدری نے کہاکہ ایمرجنسی کا فیصلہ نہ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے اور نہ ہی پختونوں کے خلاف، بلکہ یہ پاکستان کے مفاد میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی کارکن اور وفاقی کابینہ کے رکن کی حیثیت سے پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس فیصلے میں کوئی سیاسی عنصر شامل نہیں۔ یہ اقدام نہ سیاسی مخالف تحریک انصاف کے خلاف کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی لانگ مارچ کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق تحریک انصاف اس سے پہلے بھی متعدد لانگ مارچ اور احتجاج کرچکی ہے۔ 26 نومبر، 9 مئی اور 2025 میں بھی احتجاجی سرگرمیاں ہوئیں، لیکن ان مواقع پر حکومت نے کبھی یہ آئینی راستہ اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے کہاکہ بالآخر یہ فیصلہ دہشتگردی کے خلاف تعاون نہ ملنے اور صوبائی حکومت کی جانب سے مسلسل عدم تعاون کے باعث کرنا پڑا۔

طلال چوہدری نے تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ لوگ دہشتگرد کو دہشتگرد نہیں کہہ سکتے تو کم از کم دہشتگردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والوں کے جنازوں کو کندھا ہی دے دیتے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی: اسلام آباد لانگ مارچ سے گورنر راج تک، صوبے میں بڑے احتجاج کیوں نہ ہوسکے؟

انہوں نے کہا کہ صوبائی قیادت شہدا کے جنازوں کو کندھا دینے کے لیے بھی تیار نہیں تھی۔ ایسی صورتحال میں وفاقی حکومت کے پاس اس آئینی راستے کو اختیار کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp