کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے 29 جولائی 2026 کو ملنے والی 25 سالہ میر رضا علی کی لاش اور اس کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات پر سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس عمر سیال پر مشتمل سنگل ممبر جوڈیشل انکوائری کمیشن نے اپنی تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی ہے۔ 15 اکتوبر 2026 کو جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں پولیس کی شدید غفلت، غیر پیشہ ورانہ رویے اور میڈیکل بورڈز کی تشکیل میں غیر قانونی تبدیلیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔
انسٹٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے گریجویٹ اور ‘Wafflix’ نامی کاروبار کے مالکان میں شامل 25 سالہ میر رضا علی 28 جولائی 2026 کی صبح پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے لاپتا ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: سندھ کابینہ کا میر رضا کیس کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا فیصلہ
اسی روز ان کے اہل خانہ نے تھانہ فیروز آباد میں اغوا کی ایف آئی آر درج کروائی۔ اگلے ہی دن 29 جولائی کی صبح ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے سے ملی، جس کا جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد تدفین کر دی گئی۔
ابتدا میں پولیس نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا۔ تاہم، مقتول کے اہل خانہ نے جسم پر تشدد کے نشانات کی نشاندہی کرتے ہوئے خودکشی کے نظریے کو مسترد کردیا۔
اگست کے اوائل میں پولیس سرجن کی جانب سے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کے بعد 8 اگست کو لاش کی قبر کشائی کی گئی۔ 31 اگست کو آنے والی حتمی رپورٹ نے تصدیق کی کہ میر رضا علی کو پیٹھ کے پیچھے سے گولی مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد مقدمے میں قتل (دفعہ 302) اور شواہد مٹانے (دفعہ 201) کی دفعات شامل کی گئیں۔
کمیشن کی کارروائی
سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن کے تحت قائم ہونے والے اس جوڈیشل کمیشن نے 27 اگست 2026 سے 7 اکتوبر 2026 کے دوران 20 سے زیادہ اجلاسوں میں 50 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام اجلاس عوام کے سامنے منعقد کیے گئے اور 5 اکتوبر کو موقع واردات کا معائنہ بھی کیا گیا۔
خودکشی یا قتل؟ کمیشن کا حتمی نتیجہ
کمیشن نے پولیس کے خودکشی کے نظریے کو مکمل طور پر باطل اور بلا جواز قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ایس ایچ او عدلیہ اور پولیس نے غیر تصدیق شدہ میسجز اور ڈرافٹ رپورٹ کی بنیاد پر خودکشی کا ڈرامہ گھڑا۔ رپورٹ میں گولی جسم کے پچھلے حصے سے نکلنے کے عمل کو بنیاد بنا کر خودکشی قرار دیا گیا، جبکہ بعد کی تحققیات سے ثابت ہوا کہ گولی پیچھے سے ماری گئی تھی۔
’لاش پر تیزاب سے جلنے کے نشانات، خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی، خون کا نہ ہونا اور زخم کا غیر معمولی مقام تکنیکی و قانونی طور پر خودکشی کے امکان کو مکمل ختم کرتے ہیں۔ یہ واضح طور پر قتل کا کیس ہے۔‘
میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور تنازع
قبر کشائی کے لیے عدالتی حکم کے بعد جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں سندھ ہیلتھ سیکریٹریٹ کی مداخلت پر کمیشن نے سخت تشویش ظاہر کی، 6 اگست کو کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کی سربراہی میں 8 رکنی بورڈ تشکیل دیا گیا۔ 7 اگست کو ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ نے رات کے اندھیرے میں پہلا بورڈ منسوخ کر کے حیدرآباد اور جامشورو کے ڈاکٹروں پر مشتمل 5 رکنی نیا بورڈ بنا دیا۔
لواحقین نے قبرستان پر اس بورڈ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ 8 اگست کو عوام اور میڈیا کے شدید دباؤ کے بعد حکومت نے اصل 8 رکنی بورڈ بحال کیا، جس کے بعد قبر کشائی مکمل ہوئی۔ کمیشن نے اس بیوروکریٹک مداخلت کو انتہائی غیر قانونی اور مشکوک قرار دیا۔
9 اگست کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے جنم لینے والے تنازعات پر کمیشن نے کہاکہ وزیراعلیٰ کو صوبے کے انتظامی سربراہ ہونے کے ناطے کیس پر بریفنگ لینے کا پورا حق حاصل تھا۔
اس اجلاس میں ڈاکٹر اسامہ پر کسی دباؤ کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم پولیس سرجن کو نہ بلانا ایک انتظامی بھول تھی۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اس اجلاس کو بلاجواز متنازع بنانے کی کوشش کی۔
پولیس کی ناکامی اور سنگین غفلت
کمیشن نے پولیس تحققیات کو ’ناخدا کے بغیر چلنے والے جہاز‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، اور کہاکہ سینیئر افسران کی جانب سے تحقیقات کی نگرانی میں مکمل ناکامی اور مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ عوام اور میڈیا کی تنقید کے بعد پولیس نے اپنی انا کی خاطر شواہد پر نظر ثانی کرنے کے بجائے زبردستی خودکشی کے بیانیے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی۔
کمیشن کے مطابق درجنوں بااختیار و بے اختیار پولیس افسران نے جائے وقوعہ سے غیر طریقہ کار کے تحت شواہد اکٹھے کیے اور کسی کا کوئی تحریری ریکارڈ نہیں رکھا گیا، جس سے شواہد ضائع ہوئے۔
کمیشن کی اہم سفارشات اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل
کمیشن کے مطابق عوام اور مقتول کے خاندان کا پولیس سے اعتماد مکمل ختم ہو چکا ہے۔ اس اعتماد کی بحالی کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں ایک بااعتماد جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔
’اس ٹیم میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور این سی سی آئی اے کے سینیئر نمائندے شامل کیے جائیں۔‘
پولیس افسران کے خلاف مجرمانہ کارروائی
کمیشن نے کہاکہ شواہد مٹانے، بدنیتی اور غفلت میں ملوث پہلے 10 دنوں کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسران کے خلاف ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے۔ اور ان افسران کے خلاف تعزیری قوانین کی دفعات 201، 166(2) اور 218 PPC کے تحت نہ صرف محکماتی بلکہ مجرمانہ مقدمات درج کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: پولیس سرجن کے خلاف ہراسانی مہم پر کمیشن نے این سی سی آئی اے کو تحقیقات کی سفارش کردی
کمیشن نے سفارش کی ہے کہ سندھ پولیس اپنی ماضی کی فاش غلطیوں اور ناکامیوں کا اعلانیہ اعتراف کرے اور عوامی سطح پر معافی مانگے۔











